
مناب گرلز اسکول پر اسرائیلی حملہ، شہداء کی تعداد 53 تک پہنچ گئی
ایرانی وزارتِ تعلیم کے مطابق تین میزائل حملوں میں 63 طالبات زخمی؛ تہران سمیت کئی شہروں میں دھماکے
ایران کے جنوبی شہر Minab میں ایک گرلز اسکول پر ہونے والے مبینہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والی طالبات کی تعداد 53 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 63 زخمی بتائی جا رہی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزارتِ تعلیم کے ترجمان نے بتایا کہ اسکول پر تین مرتبہ میزائل داغے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ حملوں میں بڑی تعداد میں طالبات متاثر ہوئیں اور ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایرانی حکام کا مؤقف
وزارتِ تعلیم کے ترجمان Ali Farhadi نے الزام عائد کیا کہ حملہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی مناب کے گرلز اسکول کو براہِ راست نشانہ بنا کر کی گئی۔
دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ حملوں کا دائرہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔
تہران سمیت متعدد شہروں میں دھماکے
ایرانی ذرائع کے مطابق دارالحکومت Tehran کے علاوہ Isfahan، Qom، Karaj، Kermanshah، Lorestan Province اور Tabriz میں بھی دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر Ali Khamenei کے کمپاؤنڈ کے قریب بھی کئی میزائل گرے، تاہم اعلیٰ قیادت محفوظ رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر Masoud Pezeshkian محفوظ ہیں جبکہ سپریم لیڈر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کے جانی نقصان کا دعویٰ
غیر مصدقہ رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ حملوں کے دوران Islamic Revolutionary Guard Corps کے بعض سینئر کمانڈرز اور سیاسی شخصیات ہلاک ہوئیں، تاہم ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
علاقائی ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پورے خطے کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے، جبکہ شہری آبادی پر حملوں کے الزامات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔







