
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی مبینہ جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیاں جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جوابی آپریشن کے دوران اہم سرحدی اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق Pakistan Air Force نے افغانستان کے شہر Kandahar میں افغان فوج کے ایک ہیڈکوارٹر کو فضائی کارروائی میں تباہ کیا، جبکہ صوبہ Nangarhar Province کے مہمند دھارا بیس میں دو مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
سرحدی سیکٹرز میں چوکیوں کو نقصان
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم وارسک سیکٹر میں افغان طالبان کی شاگا پوسٹ مکمل طور پر تباہ کر دی گئی۔ اسی طرح میران شاہ کے قریب ایک پوسٹ ٹاور کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنڈوسر پوسٹ کو بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاع ہے۔
ژوب سیکٹر سے ملحقہ علاقے میں قائم طاہر پوسٹ کو بھی کارروائی کے دوران تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں آپریشن تاحال جاری ہے اور مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہے گا۔
جانی و مالی نقصانات کا دعویٰ
وفاقی وزیرِ اطلاعات Attaullah Tarar نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آپریشن کے دوران طالبان رجیم کے 331 اہلکار اور خوارج ہلاک جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق تباہ کیے گئے ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کی تعداد 163 تک پہنچ گئی ہے۔
بیان کے مطابق 104 چوکیوں کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا جبکہ 22 چوکیوں کا کنٹرول پاکستانی فورسز نے سنبھال لیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ افغانستان بھر میں 37 مختلف مقامات کو فضائی کارروائی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن غضب للحق کا مقصد سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا اور بلااشتعال کارروائیوں کا مؤثر جواب دینا ہے، جبکہ خطے کی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔







