
خلیج میں میزائل حملے اور فضائی دفاعی نظام فعال، خطے میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی
ایران کی مبینہ جوابی کارروائی کے بعد بحرین، قطر اور دیگر خلیجی ریاستوں میں دھماکوں، سائرن اور دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات
خلیج کے مختلف علاقوں سے زور دار دھماکوں، ہنگامی سائرن بجنے، فضائی دفاعی نظام کے متحرک ہونے اور آسمان پر دھوئیں کے بادل دکھائی دینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی مقامات پر میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پہلے ہی عندیہ دیا تھا کہ وہ خطے میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے امریکہ کے خلیجی اتحادی ممالک کی سمت میزائل فائر کیے گئے، جس کے بعد سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا۔
بحرین میں پیٹریاٹ نظام کی کارروائی
Bahrain میں مقیم ایک برطانوی شہری نے بتایا کہ صورتحال انتہائی خوفناک تھی جب اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ امریکی ساختہ Patriot missile system نے ایک آنے والے میزائل کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ اس کے مطابق دھماکے کی آواز اور آسمان پر روشنی کے مناظر نے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
خلیجی ریاستوں کا جنگی پس منظر
یہ پہلا موقع نہیں جب خلیجی ریاستیں جنگی خطرات سے دوچار ہوئی ہوں۔ ماضی میں بھی خطہ متعدد بڑے تنازعات کا مرکز رہا ہے، جن میں Iran–Iraq War، Gulf War اور 2003 invasion of Iraq شامل ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہے۔
سفارتی کوششیں اور خدشات
اطلاعات کے مطابق Oman، Qatar اور Saudi Arabia کی قیادت نے پہلے ہی امریکی انتظامیہ پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے خلاف براہِ راست کارروائی سے گریز کرے تاکہ خطہ کسی بڑے تصادم سے بچ سکے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو یہ تنازع مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور پورا مشرقِ وسطیٰ اس کے اثرات کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔







