
ایران جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، صدر مسعود پزشکیان کا دوٹوک مؤقف
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر کے حکم کے مطابق جوہری ہتھیاروں کی تیاری ممنوع ہے، وزیر خارجہ نے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ بھی کر دیا
Masoud Pezeshkian نے واضح کیا ہے کہ ایران تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کی جانب سے جاری کردہ حکم کے مطابق جوہری ہتھیار بنانا ممنوع ہے۔
ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ سپریم لیڈر کے فتوے سے یہ بات دوٹوک انداز میں واضح ہو جاتی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام عسکری مقاصد کے لیے نہیں ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای نے 2000ء کی دہائی کے آغاز میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خلاف مذہبی حکم جاری کیا تھا، جسے ایرانی پالیسی کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا عندیہ دیا کہ اگر عالمی برادری ایران کے جوہری پروگرام پر اعتماد کی بحالی چاہتی ہے تو اس کے بدلے اقتصادی پابندیوں میں نرمی ضروری ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات پر آمادہ ہے، تاہم اس کے لیے یکطرفہ دباؤ کے بجائے متوازن پیش رفت درکار ہے۔







