
خیبر پختونخوا کے ضلع Bannu میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہوگئے۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ Inter-Services Public Relations (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی اداروں کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ممکنہ خودکش حملے کی خفیہ اطلاع ملی تھی، جس پر فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا۔
بیان کے مطابق آپریشن کے دوران شدت پسند فتنہ الخوارج عناصر نے سیکیورٹی قافلے کو نشانہ بنایا اور دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی فورسز کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی۔ حملے کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز اور سپاہی کرامت شاہ جامِ شہادت نوش کر گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فورسز کی فوری جوابی کارروائی میں پانچ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ شدت پسند عناصر کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں اور افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ ماہِ رمضان کے دوران بھی دہشت گرد سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو مذہبی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملک بھر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی اور ’عزمِ استحکام‘ کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا ہے۔ شہداء کی قربانیوں کو سیکیورٹی فورسز کے عزم کو مزید مضبوط بنانے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔







