
امریکا کا ایران کے خلاف ممکنہ براہِ راست اقدام؟ برطانوی خبر ایجنسی کا بڑا دعویٰ
رپورٹس میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے اور اردن میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کا ذکر
برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف سخت حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں، جس میں ایرانی قیادت کو براہِ راست ہدف بنانے کا امکان بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر ممکنہ "محدود حملوں” کی خبروں کے تناظر میں امریکی فوج کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی پالیسی صرف عسکری دباؤ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کی وسیع تر کوشش بھی کی جا سکتی ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں ایران کی اعلیٰ قیادت خصوصاً آیت اللہ علی خامنہ ای کے حوالے سے سخت بیانات دے چکے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔
مزید برآں، ایک امریکی اخبار نے سیٹلائٹ تصاویر کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اردن میں قائم ایک امریکی فضائی اڈے پر غیر معمولی عسکری نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق مذکورہ بیس پر کم از کم 60 اٹیک طیارے تعینات کیے گئے ہیں، جو کسی بھی ممکنہ کارروائی کی تیاری کا اشارہ ہو سکتے ہیں۔
تاحال امریکی یا ایرانی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم خطے کی صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔







