ٹیکنالوجی

میٹا کا نیا پیٹنٹ: کیا وفات کے بعد بھی برقرار رہے گی سوشل میڈیا موجودگی؟

مصنوعی ذہانت کے ذریعے صارف کی آن لائن سرگرمی کو ’سمولیٹ‘ کرنے کی ٹیکنالوجی پر بحث تیز

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے جہاں Meta Platforms نے ایک ایسا پیٹنٹ حاصل کیا ہے جو صارف کی غیر موجودگی یا وفات کے بعد بھی اس کی سوشل میڈیا سرگرمی کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت نے ڈیجیٹل پرائیویسی، اخلاقیات اور قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پیٹنٹ میں کیا تجویز کیا گیا ہے؟

رپورٹس کے مطابق، اس تصور میں ایک جدید بڑا لینگویج ماڈل (LLM) شامل ہے جو صارف کے سابقہ آن لائن رویّے، پوسٹس، تبصروں اور انگیجمنٹ ہسٹری کی بنیاد پر اس کی ڈیجیٹل شخصیت کو نقل کر سکتا ہے۔

منصوبے کے تحت اگر کوئی صارف طویل عرصے تک پلیٹ فارم سے غیر فعال رہے یا اس کا انتقال ہو جائے تو سسٹم اس کی جانب سے:

  • نئی پوسٹس تیار کر سکتا ہے

  • کمنٹس اور لائکس کر سکتا ہے

  • ڈائریکٹ میسجز کے جوابات دے سکتا ہے

پیٹنٹ دستاویز کے مطابق یہ نظام "صارف کے مخصوص ڈیٹا” پر انحصار کرے گا تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ وہ عام حالات میں کس انداز میں ردِعمل دیتا تھا۔

فائلنگ اور منظوری کی تفصیلات

یہ پیٹنٹ 2023 میں فائل کیا گیا تھا اور دسمبر کے اختتام پر منظور کیا گیا۔ دستاویز میں Andrew Bosworth کو مرکزی مصنف کے طور پر درج کیا گیا ہے، جو کمپنی میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔

پیٹنٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو ویڈیو یا آڈیو کالز کی نقل کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے کسی فرد کی ڈیجیٹل موجودگی مزید حقیقی محسوس ہو سکتی ہے۔

کمپنی کا مؤقف

Meta Platforms نے واضح کیا ہے کہ فی الحال اس مخصوص ٹیکنالوجی کو تجارتی بنیادوں پر متعارف کرانے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں۔ کمپنی کے مطابق کسی بھی ٹیکنالوجی کا پیٹنٹ حاصل کرنا اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا کہ اسے لازماً مارکیٹ میں پیش کیا جائے گا۔

دیگر کمپنیوں کی دلچسپی

اسی نوعیت کے تصورات پر دیگر ٹیکنالوجی ادارے بھی کام کر چکے ہیں۔

مثال کے طور پر Microsoft نے 2021 میں ایک اے آئی چیٹ بوٹ کا پیٹنٹ حاصل کیا تھا جو وفات پا جانے والے افراد، خیالی کرداروں یا معروف شخصیات کی طرزِ گفتگو کی نقل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف اسٹارٹ اپس نے اے آئی پر مبنی یادگاری اوتار (Memorial Avatars) متعارف کرانے کی کوششیں کی ہیں۔

ماہرین کے تحفظات

اس قسم کی ٹیکنالوجی پر قانونی، اخلاقی اور نفسیاتی خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

برطانیہ کی University of Birmingham سے وابستہ ڈیجیٹل حقوق کی ماہر Edina Harbinja کے مطابق ایسی پیش رفت پیچیدہ قانونی اور فلسفیانہ سوالات کو جنم دیتی ہے، جن پر سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بعد از وفات ڈیجیٹل رازداری، ڈیٹا کی ملکیت، اور ورثا کے حقوق جیسے معاملات کو واضح قانونی فریم ورک کے بغیر حل کرنا مشکل ہوگا۔


ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے اس دور میں سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل دنیا میں انسانی موجودگی کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھا جا سکتا ہے، یا یہ رجحان نئے اخلاقی اور سماجی چیلنجز کو جنم دے گا؟ آنے والے وقت میں اس حوالے سے مزید بحث متوقع ہے۔

جواب دیں

Back to top button