
ایران اور روس کی مشترکہ بحری مشقیں کل بحیرۂ عمان میں، سمندری سکیورٹی پر زور
شمالی بحرِ ہند میں منعقد ہونے والی مشقوں کا مقصد محفوظ جہازرانی، تجارتی جہازوں کا تحفظ اور سمندری دہشت گردی کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانا ہے
Iran اور Russia کی بحری افواج کل بحیرۂ عمان اور شمالی بحرِ ہند کے علاقے میں مشترکہ بحری مشقوں کا آغاز کریں گی۔ حکام کے مطابق ان مشقوں کا مرکزی ہدف خطے میں پائیدار سمندری سکیورٹی اور محفوظ جہازرانی کو یقینی بنانا ہے۔
سمندری سکیورٹی اور محفوظ جہازرانی پر توجہ
مشقوں کے ترجمان ایڈمرل Hassan Maqsoudlou نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان بحری تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ آپریشنز کی منصوبہ بندی و مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا اس اقدام کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔
ان کے مطابق مشقوں کے دوران تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے تحفظ، سمندری دہشت گردی کے انسداد اور بحری سلامتی کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملیوں کا عملی جائزہ لیا جائے گا۔
علاقائی تعاون کو فروغ دینے کی کوشش
ایڈمرل مقصودلو کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی مشقیں نہ صرف دوطرفہ دفاعی تعلقات کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ خطے کے ممالک کے کردار کو بھی مستحکم بناتی ہیں، جس سے علاقائی سطح پر تعاون میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
بندرعباس میں روسی بحری بیڑے کی آمد
دوسری جانب روسی بحری بیڑے کے کمانڈر الکسی سرگیف نے Bandar Abbas پہنچنے پر ایرانی حکام کی میزبانی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے قریبی اور دوستانہ تعلقات اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ سمندری اور ساحلی چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
روسی کمانڈر کے مطابق مستقبل میں بھی مختلف خطوں میں مشترکہ بحری مشقوں کا انعقاد کیا جا سکتا ہے، جن میں سمندری دہشت گردی کے خلاف خصوصی آپریشنز اور جنگی جہازوں کی مشترکہ کارروائیاں شامل ہوں گی۔







