ٹائٹلعالمی امور

بنگلادیش انتخابات 2026: بی جے پی بھی ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب، اصل حقیقت سامنے آگئی

بی این پی کو واضح برتری، بنگلادیش جتیا پارٹی نے بھی ایک نشست جیت لی، طلبہ تحریک کے بعد سیاسی منظرنامہ تبدیل

بنگلادیش میں طلبہ تحریک کے بعد منعقد ہونے والے 13ویں عام انتخابات نے ملکی سیاست کا منظرنامہ بدل دیا۔ انتخابی نتائج میں جہاں بڑی جماعتوں نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، وہیں بعض چھوٹی اور ماضی میں دباؤ کا شکار رہنے والی جماعتیں بھی قومی اسمبلی میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں۔

بی جے پی نام نے سب کو چونکا دیا

نتائج کی فہرست میں ایک نشست پر “بی جے پی” کا نام سامنے آیا تو سوشل میڈیا پر قیاس آرائیاں شروع ہوگئیں کہ آیا یہ بھارت کی Bharatiya Janata Party تو نہیں؟ تاہم حقیقت اس سے مختلف ہے۔

یہ دراصل بنگلادیش کی سیاسی جماعت Bangladesh Jatiya Party (بی جے پی) ہے، جس نے حالیہ انتخابات میں ایک نشست اپنے نام کی۔ پارٹی کے امیدوار اندالیو رحمان پارتھو نے بھولا-1 کے حلقے سے کامیابی حاصل کی۔

مجموعی نتائج: کس نے کتنی نشستیں جیتیں؟

Bangladesh Election Commission کے جاری کردہ نتائج کے مطابق 297 نشستوں میں سے Bangladesh Nationalist Party (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 212 نشستیں حاصل کیں، جن میں بی این پی اکیلے 209 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے رہی۔

اتحادی جماعتوں میں گنوسمہتی اندولن، بنگلادیش جتیا پارٹی (بی جے پی) اور گونو ادھیکار پریشد شامل ہیں، جنہوں نے ایک، ایک نشست جیتی۔

دوسری جانب Bangladesh Jamaat-e-Islami اور اس کے اتحادیوں نے مجموعی طور پر 77 نشستیں حاصل کیں، جن میں جماعت اسلامی نے 68 نشستوں پر کامیابی سمیٹی جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے 6 نشستیں جیتیں۔

امیدواروں اور انتخابی مقابلے کی تفصیل

اس الیکشن میں 50 سیاسی جماعتوں کے 2,028 امیدواروں نے حصہ لیا، جن میں 273 آزاد امیدوار شامل تھے۔ بی این پی نے سب سے زیادہ 291 امیدوار میدان میں اتارے، جبکہ 83 خواتین امیدوار بھی انتخابی عمل کا حصہ بنیں۔

اندالیو رحمان پارتھو کی کامیابی کی تفصیلات

بی جے پی کے امیدوار اندالیو رحمان پارتھو نے 1 لاکھ 5 ہزار 543 ووٹ حاصل کیے اور اپنے قریب ترین حریف، جماعت اسلامی کے محمد نذر الاسلام کو شکست دی، جنہیں 75 ہزار 337 ووٹ ملے۔

انتخابات سے قبل پارتھو نے اپنے حلقے کے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بھولا کو جنوبی خطے کا جدید اور خوبصورت شہر بنانے کے لیے ترقیاتی منصوبے شروع کریں گے۔ ان کی کامیابی کو مقامی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

جواب دیں

Back to top button