ٹائٹلعالمی امور

بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات 12 فروری کو، 394 عالمی مبصرین کی آمد

عام انتخابات کے ساتھ جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم بھی ہوگا، 21 ممالک اور عالمی تنظیموں کے مبصرین انتخابی عمل کی نگرانی کریں گے

بنگلہ دیش میں عام انتخابات 12 فروری کو، عالمی مبصرین کی بڑی تعداد پہنچ گئی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں 13ویں عام انتخابات 12 فروری کو منعقد ہوں گے، جن کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انتخابی عمل کی نگرانی کے لیے دنیا بھر سے سینکڑوں بین الاقوامی مبصرین اور غیر ملکی صحافی ملک پہنچ چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 394 بین الاقوامی انتخابی مبصرین اور 197 غیر ملکی صحافی ڈھاکہ میں موجود ہیں جو عام انتخابات کے ساتھ ہونے والے جولائی نیشنل چارٹر ریفرنڈم کا بھی مشاہدہ کریں گے۔

بین الاقوامی مبصرین کی نمایاں شرکت

رپورٹس کے مطابق 80 مبصرین مختلف عالمی تنظیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں جبکہ 51 مبصرین عالمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ اس مرتبہ مبصرین کی تعداد 7 جنوری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات کے مقابلے میں دوگنا سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

ماضی کے انتخابات پر نظر ڈالیں تو:

  • 12ویں عام انتخابات میں 158 مبصرین

  • 11ویں عام انتخابات میں 125 مبصرین

  • 10ویں عام انتخابات میں صرف 4 بین الاقوامی مبصرین شریک ہوئے تھے

اہم مبصر مشنز میں ایشین نیٹ ورک فار فری الیکشنز (28 مبصرین)، کامن ویلتھ سیکریٹریٹ (27)، انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ، امریکا (19) اور نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ (1) شامل ہیں۔

دیگر اداروں میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC)، انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز، اور یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

کن ممالک سے مبصرین شریک ہیں؟

یورپی یونین کے علاوہ 21 ممالک کے مبصرین بھی انتخابی عمل کا جائزہ لیں گے۔ ان میں پاکستان، سری لنکا، ترکیہ، چین، جاپان، جنوبی کوریا، روس، ایران، ملائیشیا، فلپائن، جنوبی افریقہ اور نائیجیریا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

وزارت خارجہ اور الیکشن کمیشن کے مطابق وائس فار جسٹس، ڈیموکریسی انٹرنیشنل، سارک ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن اور دیگر اداروں سے وابستہ 51 مبصرین انفرادی حیثیت میں بھی نگرانی کریں گے۔

عبوری حکومت کا مؤقف

سینیئر حکام کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے مبصرین کی بڑی تعداد میں شرکت بنگلہ دیش کی عبوری حکومت پر اعتماد کا اظہار ہے۔ ان کے مطابق نہ صرف مبصرین کی تعداد بلکہ ان کا تجربہ اور پیشہ ورانہ معیار بھی حوصلہ افزا ہے، کیونکہ کئی مبصرین عالمی سطح پر انتخابی نگرانی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔

امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کی شرکت

پارلیمانی نشستوں کے لیے 50 سے زائد سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں سمیت 2 ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔ انتخابات کے ساتھ ساتھ جولائی نیشنل چارٹر پر ریفرنڈم بھی منعقد ہوگا۔


جولائی نیشنل چارٹر کیا ہے؟

جولائی نیشنل چارٹر ایک اہم قومی دستاویز ہے جسے عوامی رائے کے لیے ریفرنڈم میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں ملک کی سیاسی سمت، حکمرانی کے اصولوں اور مستقبل کی پالیسی ترجیحات سے متعلق بنیادی نکات شامل ہیں۔

حکومتی مؤقف کے مطابق اس چارٹر کا مقصد قومی اتفاق رائے کو فروغ دینا اور ریاستی نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ ووٹرز ایک ہی دن پارلیمانی نمائندوں کے انتخاب کے ساتھ اس دستاویز کے حق یا مخالفت میں اپنی رائے بھی دے سکیں گے۔

جواب دیں

Back to top button