ٹائٹلجرم و سزا

بھاٹی گیٹ سانحہ: ماں بیٹی کی ہلاکت کے کیس میں مدعیان کی صلح، 5 ملزمان ضمانت پر رہا

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور بیٹی کے مقدمے میں مدعیان نے اللہ کی رضا کے لیے ملزمان کو معاف کر دیا، عدالت نے صلح کی بنیاد پر ضمانت منظور کر لی۔

بھاٹی گیٹ سانحہ: ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے کیس میں مدعیان کی صلح، 5 ملزمان ضمانت پر رہا

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے دلخراش واقعے، جس میں ماں اور بیٹی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں، اس مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔ کیس کے مدعیان نے ملزمان کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ مقدمہ جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس کی عدالت میں زیر سماعت تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے فریقین کے درمیان صلح کی بنیاد پر گرفتار پانچوں ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

عدالت میں مدعی کی جانب سے بیان دیا گیا کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہیں چاہتے اور ملزمان کو بری یا مقدمے سے ڈسچارج کیے جانے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوانے کا الزام

اس کیس میں اس وقت نیا موڑ آیا تھا جب متاثرہ خاندان کی جانب سے پولیس پر سنگین الزامات عائد کیے گئے۔ مدعی خاتون کے والد ساجد حسین نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان سے زبردستی سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے۔

بعد ازاں تھانے میں ساجد حسین سے انگوٹھا لگوانے کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آ گئی، جس کے بعد ورثا نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس اہلکار دباؤ ڈال کر خالی کاغذات پر انگوٹھے لگوا کر لے گئے۔

بھاٹی گیٹ واقعے کی تفصیلات

واضح رہے کہ چند روز قبل بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا تھا جہاں ماں اپنی کمسن بیٹی کے ہمراہ کھلے سیوریج ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔

واقعے کے بعد انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا کہ ابتدا میں اس سانحے کو دبانے اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ ایسا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا اور تکنیکی اعتبار سے مذکورہ سیوریج ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا ممکن نہیں۔

دوسری جانب پولیس نے بھی ابتدائی تفتیش میں واقعے کو گھریلو جھگڑے کا رنگ دینے کی کوشش کی اور شوہر کے خلاف بیوی سے تنازع اور سنگین الزامات پر مبنی رپورٹ مرتب کی۔ شک کی بنیاد پر شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم بعد میں پولیس نے کسی بھی گرفتاری کی تردید کر دی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا نوٹس

واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر، مینیجر اور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

جواب دیں

Back to top button