
قائد حزب اختلاف سینیٹ و سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد کے اندر ہونے والے دھماکے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وحشیانہ اور بزدلانہ حملہ نہ صرف بے گناہ نمازیوں بلکہ انسانیت، دین اسلام اور معاشرتی اقدار پر براہِ راست حملہ ہے۔
عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے والے گمراہ عناصر ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یہ دہشتگرد امریکہ اور اسرائیل کے آلہ کار بن کر پاکستان میں خونریزی پھیلا رہے ہیں۔
امام بارگاہ و مسجدخدیجۃ الکبریٰ میں نمازیوں پر خودکش حملے کیخلاف سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی اپیل پر ملک بھر میں پرامن احتجاج کئے گئے،
جن میں مقررین نے شہداء کو انصاف فراہم کرنے اور دہشت گردی کے فوری قلع قمع کرنے کا مطالبہ کیا۔ لاہور میں پریس کلب کے باہر سید دانش علی نقوی اور علامہ مبارک موسوی کی قیادت میں ہزاروں مردو خواتین نے پرامن احتجاج کیا اور دہشت گردی کی شدید مذمت کی۔
مظاہرین نے پوسٹرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جن پر تکفریت، نفرت اور فرقہ واریت کیخلاف نعرے درج تھے۔ پرامن مظاہرین سے بذریعہ فون خطاب کرتے ہوئے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ اسلام آباد جیسے حساس اور دارالحکومت کے شہر میں، جہاں جگہ جگہ چیک پوسٹیں اور ہزاروں کیمرے نصب ہیں، دہشتگردوں کا دندناتے پھرنا سکیورٹی اداروں اور انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
حکومت کی ساری توجہ عوام کی آواز کو دبانے پر مرکوز ہے، جبکہ ملک کی معیشت اور سکیورٹی دونوں بدترین حالت میں ہیں۔







