
کنوارے مرد و خواتین کو رہائش سے محروم کرنا غیر آئینی قرار، وفاقی محتسب کا تاریخی فیصلہ
خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے والی وفاقی محتسب (فوسپاہ) نے کنوارے مردوں اور خواتین کو رہائشی سہولت نہ دینے سے متعلق تمام پالیسیوں اور روایات کو غیر آئینی، غیر قانونی اور امتیازی قرار دے دیا ہے۔
وفاقی محتسب کی جانب سے کرایہ داری قوانین کے حوالے سے دیے گئے اس اہم فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بیچلرز کو رہائش سے روکنے والی کسی بھی قسم کی تحریری یا غیر تحریری پالیسی قانوناً ناقابلِ قبول ہے اور ایسی روایات کو ابتدا ہی سے کالعدم تصور کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ اسلام آباد کی ایک نجی رہائشی عمارت کی انتظامیہ کے خلاف ثناء ہمایوں خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سامنے آیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عمارت کی انتظامیہ نے انہیں مسلسل ہراساں کیا، دباؤ میں رکھا اور محض غیر شادی شدہ ہونے کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا۔
شکایت کے مطابق، اپنی بہن کے ہمراہ پرامن رہائش اختیار کرنے اور کرایہ داری کی تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود انہیں بارہا یہ کہہ کر نشانہ بنایا گیا کہ عمارت میں کنوارے افراد کو رہنے کی اجازت نہیں۔
وفاقی محتسب نے اس الزام کا بھی سنجیدگی سے جائزہ لیا کہ درخواست گزار کو زبردستی مکان خالی کرانے کے لیے بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات منقطع کی گئیں اور صنفی تعصب پر مبنی غیر قانونی پالیسیوں کا نفاذ کیا گیا۔ اگرچہ بعد ازاں انتظامیہ کی یقین دہانی پر انفرادی معاملہ حل ہو گیا، تاہم فوسپاہ نے ملک بھر میں غیر شادی شدہ پیشہ ور خواتین اور مردوں کو درپیش منظم امتیازی رویوں پر نوٹس لینا ضروری قرار دیا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ازدواجی حیثیت یا جنس کی بنیاد پر کسی فرد کو رہائش سے محروم کرنا آئین اور قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ وفاقی محتسب نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے اقدامات مساوات، انسانی وقار اور رہائش کی آزادی جیسے بنیادی آئینی حقوق کو متاثر کرتے ہیں۔
فوسپاہ نے مزید کہا کہ نقل و حرکت اور رہائش کا حق کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے، بالخصوص خواتین کے لیے، کیونکہ ان کے روزگار کے مواقع زیادہ تر بڑے شہروں تک محدود ہوتے ہیں۔







