پاکستانٹائٹل

لاہور میں بسنت کی مشروط اجازت، پتنگوں اور ڈور کی فروخت کا باضابطہ آغاز

ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کے تحت 6 سے 8 فروری تک بسنت منانے کی اجازت، رجسٹریشن لازمی قرار

لاہور میں بسنت کی تیاریوں کا آغاز، پتنگوں اور ڈور کی فروخت شروع

لاہور میں بسنت کی تقریبات کے پیشِ نظر پتنگوں اور ڈور کی فروخت کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بسنت کے موقع پر پتنگ سازی اور فروخت کے لیے آن لائن پورٹل پر رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جس کے بغیر کسی کو کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کے مطابق شہر میں 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت منانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران جاری کردہ تمام قوائد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

انتظامیہ کے مطابق پتنگیں اور ڈور صرف رجسٹرڈ سیلز پوائنٹس سے ہی دستیاب ہوں گی۔ صرف مقررہ سائز کی پتنگیں بنانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ کاٹن کی 9 دھاگوں والی ڈور استعمال کی جا سکے گی۔ چرخی، تیز مانجھا، نائلون یا پلاسٹک کی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی، جس کی خلاف ورزی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے لوہے کی حفاظتی راڈ لگانا لازمی ہوگا تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

بسنت کے شوقین شہری بڑی تعداد میں اندرون لاہور، خصوصاً موچی گیٹ کے علاقے میں پتنگیں اور ڈور خریدنے کے لیے رات گئے پہنچ گئے، تاہم دکانداروں نے آگاہ کیا کہ فروخت کا باقاعدہ آغاز صبح کے اوقات میں ہوگا۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پتنگیں اور ڈور صرف رجسٹرڈ خریداروں کو فروخت کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد بسنت کو محفوظ اور منظم انداز میں منانا ہے۔

یاد رہے کہ لاہور میں بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ ہزاروں افراد کے روزگار سے وابستہ ایک صنعت رہی ہے۔ 2007 میں پابندی کے بعد پتنگ سازی اور ڈور کے کاروبار سے جڑے بے شمار خاندان شدید معاشی مشکلات کا شکار ہوئے تھے۔

شہریوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اگر حکومت کے جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عمل کیا جائے تو بسنت کو ہر سال محفوظ طریقے سے منایا جا سکتا ہے، جس کی ذمے داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button