
ایران پر حملہ خطے میں شدید عدم استحکام کا باعث بنے گا، کریملن کا انتباہ
روسی ترجمان دیمیتری پسکوف نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی پر خبردار کرتے ہوئے تمام فریقین سے تحمل اور پرامن سفارتی حل اختیار کرنے کی اپیل کی۔
ایران پر ممکنہ حملہ خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا، کریملن کا انتباہ
روسی صدر کے ترجمان دیمیتری پسکوف نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور اس سے پورا خطہ شدید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
ماسکو میں ایک پریس بریفنگ کے دوران دیمیتری پسکوف نے کہا کہ روس تمام فریقین سے توقع رکھتا ہے کہ وہ تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور اختلافات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے سفارتی اور پرامن راستہ اختیار کیا جائے گا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اور اشتعال انگیز بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان بیانات کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا اور نفسیاتی حکمتِ عملی کے ذریعے اسے امریکی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
دوسری جانب مختلف مزاحمتی تنظیموں نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی پورے خطے کو ایک بڑے تصادم کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں امریکی کانگریس کے بعض اراکین نے مغربی ایشیا میں کسی نئی فوجی مہم جوئی کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف توانائی کی عالمی قیمتیں متاثر ہوں گی بلکہ امریکی فوجیوں کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ادھر ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری یا سرحدوں پر کسی بھی حملے کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔







