
ایران کے خلاف حملہ خطے کو شدید بحران میں دھکیل سکتا ہے، اسرائیلی میڈیا کا اعتراف
رائٹرز نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کی صورت میں ایک ہمہ گیر علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔
اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹ وائی نیٹ نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں تسلیم کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے نتیجے میں پورے خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے تنازعات کی سطح میں نمایاں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسی صورتحال کے اثرات صرف عسکری میدان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ، خطے میں نئے علاقائی فریقوں کی شمولیت، جوابی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع اور سیاسی و عسکری طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔
دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی حملے کی صورت میں ایک ہمہ گیر علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس طرح کی صورتحال ایران کو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور واشنگٹن کے اتحادیوں کے خلاف مؤثر اور وسیع ردعمل پر مجبور کر سکتی ہے۔
مزید برآں معاشی تجزیہ کرنے والی ویب سائٹس کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ عالمی توانائی کی منڈیاں ایسے واقعات پر فوری ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔ ماضی کے تجربات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی اور صہیونی جارحیت کے خدشات کے دوران عالمی تیل مارکیٹ میں نمایاں اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔







