ٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

ایران نے امریکہ پر انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی میں برتری ثابت کر دی: عبدالباری عطوان

عبدالباری عطوان نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو اسے بھی اسی طرح کے ذلت آمیز نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

معروف عرب اور علاقائی امور کے سینئر تجزیہ کار عبدالباری عطوان کا کہنا ہے کہ ایران نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ انٹیلی جنس اور تکنیکی صلاحیتوں میں امریکہ سے کہیں آگے ہے، اور اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی کی تو اس کا انجام یقینی ناکامی ہوگا۔

یمنی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عبدالباری عطوان نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ اور متکبرانہ پالیسیاں، چاہے وہ داخلی سطح پر ہوں یا یمن، ایران، غزہ اور لبنان پر مشتمل مزاحمتی اتحاد کے خلاف، درحقیقت امریکہ کو داخلی انتشار اور عالمی تنہائی کی جانب دھکیل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ بتدریج ایک آمرانہ اور جارح ریاست کی شکل اختیار کر چکا ہے جو عالمی امن اور استحکام کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔ عطوان کے مطابق ٹرمپ دور میں مظاہرین کے خلاف سخت کارروائیاں، مسلمانوں کی عالمی سرگرمیوں پر پابندیاں، اور مہاجرین خصوصاً صومالی باشندوں کے خلاف اقدامات نے امریکہ کو دنیا میں نسلی امتیاز کی علامت بنا دیا ہے۔

تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یہ تمام پالیسیاں آزادی اور انسانی حقوق سے متعلق امریکی دعوؤں کی کھلی نفی ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف تائیوان اور ہانگ کانگ میں مظاہروں کی حمایت کی جاتی ہے، جبکہ دوسری جانب میناپولس میں احتجاج کرنے والوں کو اندرونی دہشت گرد قرار دے کر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

عبدالباری عطوان کے مطابق امریکہ اب زوال کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، کیونکہ وفاقی حکومت مختلف ریاستوں پر اپنا مؤثر کنٹرول کھو رہی ہے۔ انہوں نے کیلیفورنیا کی مثال دی جو عالمی ادارۂ صحت کی مالی معاونت جاری رکھے ہوئے ہے اور وفاقی فیصلوں کو کھلے عام چیلنج کر رہی ہے۔ ان کے بقول مستقبل میں نیویارک اور ٹیکساس بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کر سکتے ہیں۔

انہوں نے یمن کے خلاف امریکی دباؤ کے باوجود اس کے ردعمل کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یمنی میزائلوں کے خوف سے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کا بحیرۂ احمر اور نہر سویز سے پسپائی اختیار کرنا امریکہ کی کمزوری اور شکست کے آغاز کی واضح مثال ہے، جیسا کہ ماضی میں افغانستان اور عراق میں دیکھا جا چکا ہے۔

عبدالباری عطوان نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کی تو اسے بھی اسی طرح کے ذلت آمیز نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے مطابق ایران نے اسٹارلنک سمیت امریکی سیٹلائٹ سسٹمز میں خلل ڈال کر اپنی معلوماتی اور تکنیکی برتری کو ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے تاحال اپنی صلاحیتوں کا صرف 20 فیصد استعمال کیا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ ہمہ گیر جنگ کی صورت میں وہ اپنی مکمل طاقت بروئے کار لانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

جواب دیں

Back to top button