پاکستانٹائٹلمشرقِ وسطیٰ

پاکستان کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم، ایران خطے میں کسی نئی محاذ آرائی کا خواہاں نہیں: ایرانی سفیر

انہوں نے کہا کہ امریکا ان بیانات کو اپنے اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور عالمی برادری کو مذاکرات کا جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی عمل موجود نہیں۔

پاکستان مذاکرات کا حامی، خطے میں کشیدگی نہیں چاہتا: ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم

پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کا خواہاں ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطح پر مسلسل رابطہ قائم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے موجودہ صورتحال میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت اور مخلصانہ کردار ادا کیا ہے، جسے ایران قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ تمام ممالک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، اسی لیے ایران کسی نئی محاذ آرائی کا خواہش مند نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات ایران کے لیے قابل قبول نہیں۔

امریکی مذاکراتی دعوے زمینی حقائق کے برعکس قرار

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق بیانات کو حقائق کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران سے بات چیت کی آمادگی کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم ایران ان دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن سمجھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا ان بیانات کو اپنے اندرونی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور عالمی برادری کو مذاکرات کا جھوٹا تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی عمل موجود نہیں۔

ایران میں پرتشدد واقعات، بیرونی مداخلت کے شواہد

ایرانی سفیر نے 8 جنوری کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں پُرامن احتجاج جاری تھا اور پولیس کی موجودگی عوام کے تحفظ کے لیے تھی۔ تاہم بعد ازاں چند شہروں میں منظم ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات سامنے آئے۔

ان کے مطابق پرتشدد عناصر کی تعداد کم تھی مگر نقصانات بڑے پیمانے پر ہوئے۔ غیر ملکی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اشتعال انگیزی کو ہوا دی گئی۔ 8 سے 11 جنوری کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ رہی، جبکہ 9 سے 12 جنوری تک امن و استحکام کے لیے عوامی اجتماعات منعقد کیے گئے۔ 12 جنوری کے بعد حالات بتدریج قابو میں آنا شروع ہوئے۔

امریکی بیان پر شدید ردعمل

ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے انکشاف کیا کہ 13 جنوری کو امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایسا بیان سامنے آیا جس میں سرکاری اداروں پر قبضے کی کھلی ترغیب دی گئی، جس نے حالات کو مزید حساس بنا دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ان واقعات کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، سینکڑوں افراد زخمی ہوئے اور بڑی تعداد میں لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔ تحقیقات کے دوران دہشت گرد تنظیموں سے روابط سامنے آئے اور گرفتار افراد نے بیرونی ہدایات ملنے کا اعتراف بھی کیا۔

تشدد کے دو بنیادی اہداف تھے: ایرانی سفیر

ایرانی سفیر کے مطابق ان پرتشدد کارروائیوں کے دو بڑے مقاصد تھے: پہلا، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا، اور دوسرا، شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا، بالخصوص خواتین اور بچوں کو اُکسانا۔

انہوں نے کہا کہ اب ایران میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ ان کے مطابق تشدد کا اصل مقصد امریکا کی مداخلت کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان واقعات میں 317 افراد جان سے گئے جبکہ 2 ہزار 427 افراد زخمی ہوئے۔ مالی نقصان بھی بھاری رہا اور کئی شرپسندوں کو گرفتار کر کے دہشت گرد نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا گیا۔

جواب دیں

Back to top button