
امریکی دھمکیوں پر ایران کا سخت مؤقف، کسی بھی فوجی کارروائی کا فوری اور طاقتور جواب دینے کا اعلان
امریکی دھمکیوں پر ایران کا سخت ردِعمل، کسی بھی حملے کا فوری اور بھرپور جواب دینے کا اعلان
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نے کوئی جارحیت کی تو ایرانی مسلح افواج فوری اور فیصلہ کن ردِعمل دیں گی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی دفاعی فورسز زمین، فضا اور سمندر میں کسی بھی قسم کے حملے کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی دفاعی تیاری کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گزشتہ برس امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ہونے والی کارروائیوں سے اہم تجربات حاصل کیے گئے ہیں، جس کے بعد ایران کی دفاعی حکمتِ عملی مزید مضبوط اور ردِعمل پہلے سے زیادہ تیز اور مؤثر ہو چکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا نے خطے میں ایک بڑی بحری طاقت تعینات کر دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران نے جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر نہ کی تو سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی صدر نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری اختیار کرے اور ایک منصفانہ و مساوی معاہدے کے لیے بات چیت کا آغاز کرے۔ تاہم ایران نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ماحول میں کسی بھی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا کی جانب سے باضابطہ مذاکرات کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی اور ایران کا اصولی مؤقف یہی ہے کہ طاقت کے استعمال کی دھمکیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کی جا سکتی۔
دوسری جانب خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ مصر، ترکی اور دیگر ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔







