
اسلام آباد پولیس اور ہائیکورٹ بار کا تنازع ختم، پولیس حکام کی معذرت قبول
اسلام آباد پولیس اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے درمیان پیدا ہونے والا تنازع بالآخر حل ہو گیا ہے، جہاں پولیس حکام نے وکلاء کے ساتھ نامناسب رویے پر باضابطہ معذرت کر لی۔
یہ تنازع ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری اور پیشی کے دوران وکلاء کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک کے بعد سامنے آیا تھا، جس پر ہائیکورٹ بار کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
اس معاملے کے حل کے لیے اسلام آباد پولیس کے سینئر افسران، جن میں ڈی آئی جی جواد طارق، ڈی آئی جی سیکیورٹی عتیق اور دیگر شامل تھے، اسلام آباد ہائیکورٹ بار پہنچے اور صدر و سیکریٹری بار سے ملاقات کے دوران اپنے رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔
اس موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کے نمائندے بھی موجود تھے۔ بار قیادت نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے کیسز میں انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات کو ہائیکورٹ میں مقرر کیا جائے۔
پولیس حکام کی معذرت کے بعد بار ایسوسی ایشن نے اعلان کیا کہ ہائیکورٹ بار، ڈسٹرکٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال ختم کر دی گئی ہے اور کل سے معمول کی سرگرمیاں بحال ہوں گی۔
اس سے قبل ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی ہڑتال مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہی تھی، تاہم پولیس کی یقین دہانی اور معافی کے بعد احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
بار ایسوسی ایشن نے مزید بتایا کہ پولیس نے اس امر کی یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ کسی وکیل کو غیر قانونی طور پر گرفتار نہیں کیا جائے گا اور کالے کوٹ کے وقار اور تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔



