
ہانیہ عامر کے ڈمپلز سے متعلق سرجری کی افواہیں، کزن نے پرانی تصاویر کے ذریعے حقیقت واضح کر دی
پاکستانی شوبز انڈسٹری کی مقبول اداکارہ ہانیہ عامر اپنے خوبصورت چہرے اور دلکش مسکراہٹ میں موجود قدرتی ڈمپلز کی وجہ سے ہمیشہ مداحوں اور میڈیا کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کے ڈمپلز کو لے کر آئے دن مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہتی ہیں، جن میں حالیہ دنوں ایک ماہر امراضِ جلد کا یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ ہانیہ عامر نے ڈمپل پلاسٹی کروائی ہے۔
اب اس معاملے پر اداکارہ کی کزن نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے ہانیہ عامر کے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے دور کی چند پرانی تصاویر شیئر کیں، جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ہانیہ کے چہرے پر موجود ڈمپلز شروع سے ہی قدرتی طور پر موجود تھے۔
اپنی پوسٹ کے کیپشن میں ہانیہ عامر کی کزن نے لکھا کہ بطور فرسٹ کزن اور قریبی رشتہ دار وہ یہ ضروری سمجھتی ہیں کہ یوٹیوب اور انسٹاگرام پر پھیلنے والی غلط معلومات کی بروقت تردید کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہانیہ عامر کے ڈمپلز اور ان کی صاف و شفاف رنگت کسی قسم کی سرجری یا کاسمیٹک پروسیجر کا نتیجہ نہیں بلکہ مکمل طور پر قدرتی ہیں، جس کا ثبوت ان کی پرانی تعلیمی دور کی تصاویر خود دے رہی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہانیہ عامر نے صرف 18 سال کی عمر میں شوبز انڈسٹری میں قدم رکھا اور فلم جانان سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ گزشتہ تقریباً 10 سالوں کے دوران ان کی شخصیت اور خوبصورتی میں قدرتی طور پر نکھار آیا ہے، جو وقت، تجربے اور پروفیشنل گرومنگ کا نتیجہ ہے، نہ کہ کسی سرجری کا۔
کزن نے ایک اور اہم غلط فہمی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہانیہ عامر کا تعلق راولپنڈی سے نہیں بلکہ وہ کراچی میں ایک اعلیٰ متوسط طبقے کے گھرانے میں پیدا ہوئیں، جہاں انہیں زندگی کی بنیادی اور ضروری سہولتیں حاصل رہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال ہانیہ عامر کی شادی سے متعلق خاندان کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، لہٰذا عوام اور سوشل میڈیا صارفین کو چاہیے کہ اداکارہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں بے بنیاد افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔
یہ وضاحت سامنے آنے کے بعد ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ہر خبر یا دعویٰ حقیقت پر مبنی نہیں ہوتا، اور کسی بھی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے مستند ذرائع اور شواہد کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔



