ٹائٹلعالمی امور

نیٹو چیف مارک روٹے کا اعتراف: امریکا کے بغیر یورپ اپنا دفاع نہیں کر سکتا

امریکا کی غیر موجودگی میں یورپ اپنے سب سے مضبوط حفاظتی حصار، یعنی امریکی جوہری تحفظ (نیوکلیئر امبریلا)، سے محروم ہو جائے گا

نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ یورپ اس وقت تک مؤثر دفاع نہیں کر سکتا جب تک اسے امریکا کی مکمل حمایت حاصل نہ ہو۔

یورپی پارلیمنٹ کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے مارک روٹے کا کہنا تھا کہ یہ سوچنا کہ یورپ یا یورپی یونین امریکا کے بغیر اپنی سلامتی یقینی بنا سکتی ہے، حقیقت سے دور ایک خوش فہمی ہے۔ ان کے مطابق یورپ اور امریکا کا دفاعی رشتہ باہمی انحصار پر قائم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ امریکا کی غیر موجودگی میں یورپ اپنے سب سے مضبوط حفاظتی حصار، یعنی امریکی جوہری تحفظ (نیوکلیئر امبریلا)، سے محروم ہو جائے گا جو براعظم کی آزادی اور سلامتی کا بنیادی ستون ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ ہفتوں میں گرین لینڈ کو امریکا میں شامل کرنے کے بیانات کے بعد نیٹو کے اندر اختلافات اور بے چینی میں اضافہ دیکھا گیا۔ گرین لینڈ، نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کا نیم خودمختار علاقہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک پر تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی دھمکی بھی دی تھی، تاہم بعد ازاں معدنی وسائل سے بھرپور اس جزیرے سے متعلق ایک فریم ورک معاہدے کے بعد یہ بیانات واپس لے لیے گئے، جس میں نیٹو چیف مارک روٹے کا اہم کردار بتایا جاتا ہے۔

مارک روٹے نے مزید کہا کہ اگر یورپ واقعی امریکا کے بغیر دفاعی خودمختاری حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے دفاعی بجٹ میں غیر معمولی اضافہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق دفاعی اخراجات کو جی ڈی پی کے 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد تک لے جانا پڑے گا، ساتھ ہی یورپ کو اپنی جوہری صلاحیت بھی تیار کرنی ہوگی جس پر اربوں یورو لاگت آئے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکا کی حمایت کے بغیر یورپ نہ تو اپنی سلامتی برقرار رکھ سکتا ہے اور نہ ہی آزادی کا مؤثر دفاع کر سکتا ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ نیٹو کے حالیہ اجلاس میں یورپی ممالک اور کینیڈا نے 2035 تک اپنی مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاع اور سیکیورٹی کے لیے مختص کرنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اسپین نے اس فیصلے سے خود کو الگ رکھا۔

ادھر فرانس کی جانب سے بھی یورپ کی ’’اسٹریٹجک خودمختاری‘‘ کے مطالبے کی حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button