
مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں اضافہ، امریکی بحری جہاز اور ایران آمنے سامنے
ایران کا انتباہ: امریکی طیارہ بردار جہاز کی تعیناتی سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی
امریکی فوجی نقل و حرکت پر ایران کا ردِعمل، مکمل جنگ کے خدشات کا اظہار
ایک سینئر ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کے اسٹرائیک گروپ اور دیگر امریکی فوجی ساز و سامان کی تعیناتی کے باعث ایران کو کسی بھی ممکنہ بڑی جنگی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی اہلکار نے امید ظاہر کی کہ امریکی فوج کی حالیہ سرگرمیاں کسی وسیع پیمانے پر فوجی تصادم میں تبدیل نہیں ہوں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر ممکن صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہے۔
ایرانی عہدیدار نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر امریکہ کی جانب سے کوئی فوجی کارروائی کی گئی تو ایران کا ممکنہ ردعمل کیا ہو گا، تاہم انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ دفاعی تیاریوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جا رہی۔
ادھر امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن آئندہ چند روز میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے دائرہ اختیار میں داخل ہو جائے گا، تاہم فی الحال یہ ایران پر براہِ راست حملے کی حد میں نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حالیہ بیان میں امریکی بحری طاقت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایک بڑی عسکری قوت ایران کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم ان کی ترجیح کشیدگی سے بچنا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکہ ماضی میں بھی خطے میں کشیدگی کے دوران اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرتا رہا ہے۔ گزشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر مقامات پر امریکی فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باعث فضائی آپریشن بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق کے ایل ایم اور ایئر فرانس نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں، جبکہ لفتھانسا گروپ نے بھی حالیہ اعلان میں رات کے وقت اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔



