
غزہ سے عالمی امن تک، ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘، ایک ارب ڈالر کی شرط
ڈونلڈ ٹرمپ کا نئی عالمی تنظیم ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان، مستقل رکنیت کیلئے ایک ارب ڈالر فیس
امریکی صدر ٹرمپ کا “بورڈ آف پیس” عالمی امن تنظیم کے قیام کا اعلان، مستقل رکنیت پر $1 ارب فیس لگانے کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سطح پر امن کے فروغ اور تنازعات کے حل کے لیے ایک نئی بین الاقوامی تنظیم “بورڈ آف پیس” (Board of Peace) کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا ہے، جس کے لیے مستقل رکنیت حاصل کرنے پر ممالک سے بھاری ایک ارب ڈالر کی رقم کی شرط رکھی گئی ہے۔
یہ نئی تنظیم ابتدا میں فلسطین کے غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتحال اور تعمیرِ نو کے لیے تشکیل دی گئی تھی، لیکن اس کے چارٹر میں غزہ کے علاوہ عالمی سطح پر تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے وسیع نقشہ بھی شامل کیا گیا ہے۔
بورڈ آف پیس کا مقصد اور دائرہ کار
نئے چارٹر کے مطابق بورڈ دنیا بھر کے تنازعات سے متاثرہ یا خطرے میں پڑنے والے علاقوں میں استحکام، قانونی حکمرانی کی بحالی، اور دائمی امن کے قیام کی کوشش کرے گا۔
ٹرمپ خود اس تنظیم کے چیئرمین ہوں گے، اور انہیں ذیلی اداروں کے قیام، ترمیم یا خاتمے تک کا اختیار حاصل ہوگا تاکہ بورڈ کے مشن کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا جائے۔
رکنیت کی شرائط اور مالی تقاضے
بورڈ آف پیس میں مستقل رکنیت پانے کے لیے $1 ارب کی فیس ادا کرنا لازمی ہوگا، جبکہ تین سالہ عارضی رکنیت بھی دستیاب ہے جو چیئرمین کی اجازت کے تابع ہے۔
امریکی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ مالی تقاضا رضاکارانہ ہے، لیکن ممبر ممالک سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ امن عمل اور تعمیر نو میں حصہ ڈالیں۔
ایگزیکٹو بورڈ اور عالمی قائدین کی شمولیت
بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو بورڈ عالمی رہنماؤں اور اہم شخصیات پر مشتمل ہوگا جن میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا اور دیگر شامل ہیں۔
کئی ممالک نے اس تنظیم میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے، جن میں سعودی عرب، ترکی، مصر، قطر، پاکستان اور دیگر متعدد ریاستیں شامل ہیں، جبکہ کچھ یورپی ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے یا شرکت سے انکار کیا ہے۔
تنقید اور عالمی ردعمل
بورڈ آف پیس کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر مخلوط ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ کچھ ناقدین نے اسے اقوامِ متحدہ کے کردار کو نقصان پہنچانے یا متبادل بنانے کی کوشش قرار دیا ہے، جس پر قانونی اور سفارتی تحفظات سامنے آئے ہیں۔
ابھی کب نافذ ہوگا؟
چارٹر کے مطابق کم از کم تین ممالک کی جانب سے باضابطہ رضامندی ظاہر کرنے کے بعد یہ معاہدہ نو عملی طور پر نافذ العمل ہو جائے گا۔



