
اے آئی مردوں کی نسبت خواتین کو زیادہ بہکانے لگی!
نئی تحقیق: خواتین مصنوعی ذہانت کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک سمجھتی ہیں
اے آئی سے متعلق خدشات، محتاط رویہ اور صنفی فرق پر سائنسی شواہد سامنے آ گئے
ایک تازہ سائنسی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین، مردوں کے مقابلے میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کو زیادہ خطرات سے بھرپور ٹیکنالوجی تصور کرتی ہیں، جس کے باعث وہ اے آئی کے استعمال میں نسبتاً زیادہ احتیاط برتتی ہیں۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے PNAS Nexus میں شائع ہوئی ہے، جسے ٹیکنالوجی اور سماجی رویوں کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیق کس نے اور کیسے کی؟
نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی محقق بیٹریس میجسٹو اور ان کی ٹیم نے نومبر 2023 میں امریکا اور کینیڈا کے تقریباً 3 ہزار افراد پر مشتمل ایک جامع سروے کیا۔ اس سروے کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ مختلف افراد جنریٹیو اے آئی کے فوائد اور نقصانات کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
شرکاء سے سوال کیا گیا کہ آیا جنریٹیو اے آئی کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں یا نہیں۔ جواب کے لیے 1 سے 10 تک کا پیمانہ رکھا گیا، جہاں زیادہ اسکور کا مطلب زیادہ خدشات تھا۔
نتائج کیا رہے؟
سروے کے نتائج کے مطابق:
-
مردوں کا اوسط اسکور 4.38 رہا
-
خواتین کا اوسط اسکور 4.87 ریکارڈ کیا گیا
یوں خواتین کا خدشات پر مبنی اسکور مردوں کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد زیادہ سامنے آیا، جو صنفی فرق کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
خطرات سے بچاؤ میں خواتین کا محتاط رویہ
تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ خواتین عمومی طور پر خطرات کو پہلے سے بھانپ کر ان سے بچنے کی حکمتِ عملی اپناتی ہیں۔ لاٹری جیسے تجرباتی سوالات میں خواتین نے زیادہ فائدے مگر زیادہ خطرے کے بجائے کم مگر یقینی فائدے کو ترجیح دی۔
اے آئی اور روزگار سے متعلق خدشات
محققین کے مطابق خواتین بڑی تعداد میں ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں جو آٹومیشن اور اے آئی ٹیکنالوجی سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جیسے دفتری امور، سروس سیکٹر اور انتظامی شعبے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ممکنہ معاشی اور سماجی اثرات کو لے کر زیادہ فکرمند نظر آتی ہیں۔
فوائد واضح ہوں تو حمایت بھی بڑھتی ہے
تحقیق کے دوران جب شرکاء کو اے آئی کے عملی اور واضح فوائد دکھائے گئے تو خواتین کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کی حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس مرحلے پر خواتین کی رائے تقریباً مردوں کے برابر آ گئی، جو ظاہر کرتا ہے کہ شکوک و شبہات معلومات کی کمی سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں۔
پالیسی سازی میں صنفی پہلو کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی سازی کے دوران صنفی خدشات کو نظرانداز کیا گیا تو یہ ٹیکنالوجی معاشرتی عدم مساوات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اے آئی کے استعمال، روزگار اور ضابطہ کاری سے متعلق فیصلوں میں خواتین کے تحفظات کو شامل کیا جائے۔



