ٹائٹلٹیکنالوجی

سنیتا ولیمز کا چاند پر جانے سے انکار کیوں؟

ناسا کی سینئر خلا نورد سنیتا ولیمز آرٹیمس II مشن کے لیے پُرامید چاند پر انسانی مشن کی تیاری کو مستقبل کے لیے اہم سنگِ میل قرار دے دیا

امریکی خلائی ادارے ناسا کی معروف اور سینئر خلا نورد سنیتا ولیمز نے کہا ہے کہ وہ آرٹیمس II مشن کے حوالے سے بے حد پُرجوش ہیں، کیونکہ یہ مشن چاند پر انسانوں کی واپسی کی جانب ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم ثابت ہوگا۔

بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنیتا ولیمز کا کہنا تھا کہ جب انسان دوبارہ چاند پر قدم رکھنے کی تیاری کر رہا ہے تو آرٹیمس II جیسے مشنز نہایت ضروری ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے مستقبل کی خلائی پروازوں کے لیے قیمتی تجربات حاصل ہوں گے۔

60 سالہ خلا نورد نے حال ہی میں اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا ہے، تاہم انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ آئندہ نجی خلائی شعبے میں خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ اپنے شاندار کیریئر کے دوران سنیتا ولیمز تین مختلف خلائی مشنز میں حصہ لے چکی ہیں، جن میں انہوں نے تین الگ راکٹس کے ذریعے مجموعی طور پر 608 دن خلا میں گزارے۔

اس کے علاوہ وہ خلا میں 62 گھنٹے طویل اسپیس واک بھی کر چکی ہیں، جو انہیں دنیا کی تجربہ کار خلا نوردوں میں شامل کرتی ہے۔

چاند پر جانے سے متعلق دلچسپ ردعمل

جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ خود چاند پر جانا چاہیں گی، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ خیال بہت پسند ہے، لیکن ان کے شوہر شاید اس پر خوش نہ ہوں۔

سنیتا ولیمز کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نئی نسل کے حوالے کریں۔ ان کے مطابق آئندہ خلا نوردوں کو چاہیے کہ وہ تاریخ میں اپنا نام درج کرائیں اور انسانیت کے خلائی سفر کو آگے بڑھائیں۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button