
ٹرمپ کا اقوام متحدہ پر تنقید، ’بورڈ آف پیس‘ مستقبل میں اقوامِ متحدہ کا متبادل بن سکتا ہے
ٹرمپ کی نیوز کانفرنس: گرین لینڈ، نیٹو، معیشت اور اقوام متحدہ پر کھل کر بات صدر ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس میں ایک سال مکمل ہونے پر تفصیلی خطاب
ٹرمپ کی طویل نیوز کانفرنس، امیگریشن، معیشت، نیٹو اور گرین لینڈ پر کھل کر اظہارِ خیال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کا ایک سال مکمل ہونے پر وائٹ ہاؤس میں ایک تفصیلی نیوز کانفرنس کی، جس میں انہوں نے امیگریشن پالیسی، ملکی معیشت، نیٹو، اقوام متحدہ اور گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق اہم نکات پر گفتگو کی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نیوز کانفرنس میں سب سے زیادہ توجہ گرین لینڈ کے حوالے سے امریکی مؤقف اور یورپی اتحادیوں کے ساتھ بڑھتی کشیدگی پر مرکوز رہی۔ صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کی خواہش کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر مختلف سطح پر بات چیت جاری ہے اور انہیں یقین ہے کہ معاملات مثبت انداز میں آگے بڑھیں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا میں ریورس مائیگریشن کا رجحان بڑھ رہا ہے جبکہ معیشت نمایاں ترقی کی جانب گامزن ہے۔
نیوز کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ گرین لینڈ کے حصول کے لیے وہ کس حد تک جا سکتے ہیں تو صدر ٹرمپ نے مبہم انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں سب واضح ہو جائے گا۔
نیٹو سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے اتحاد کے مستقبل پر سوال اٹھایا اور کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، تاہم انہیں اس بات پر تحفظات ہیں کہ آیا یورپی ممالک اور کینیڈا بھی امریکا کے لیے ایسا ہی جذبہ رکھتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے نیٹو کے دفاعی بجٹ میں اضافے کو اپنی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ عالمی ادارہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے عندیہ دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے ان کا تجویز کردہ ’بورڈ آف پیس‘ مستقبل میں اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔



