ٹائٹلعالمی امورمشرقِ وسطیٰ

سپریم لیڈر پر حملہ ہوا تو جہاد کا فتویٰ دیا جائے گا: ایرانی کمیشن

ایرانی پارلیمانی کمیشن کا انتباہ، خامنہ ای پر حملہ پوری مسلم دنیا کے خلاف جنگ ہوگا

ایرانی پارلیمانی کمیشن کا سخت انتباہ، سپریم لیڈر پر حملہ پوری مسلم دنیا کے خلاف جنگ قرار

ایران کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق پارلیمانی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچایا گیا تو اسے صرف ایران نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے خلاف اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای پر کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں دینی علما جہاد کا فتویٰ جاری کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے فتوے کے بعد دنیا بھر میں موجود مسلمان اور اسلام کے حامی عناصر شدید ردعمل دیں گے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں اسرائیل میں تعینات سابق امریکی سفیر ڈین شیپیرو نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دنوں میں ایران کے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

ڈین شیپیرو کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی ممکنہ فضائی اور زمینی کارروائیوں کو آسان بنا سکتی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی موت فوری طور پر ایران میں حکومت کی تبدیلی کا سبب نہیں بنے گی۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک بیان بھی سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران میں نئی قیادت کے حوالے سے سوچنے کا وقت آ چکا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں ہونے والی بدامنی اور جانی نقصانات کا ذمہ دار امریکی صدر ٹرمپ کو قرار دیا تھا۔

اس بیان کے جواب میں صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ تہران کی قیادت اقتدار برقرار رکھنے کے لیے سخت جبر اور تشدد کا سہارا لے رہی ہے، جس کی مثال ماضی میں کم ہی ملتی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button