
ایرانی عوام پر الزامات اور نقصانات کے پیچھے امریکی صدر کا ہاتھ ہے، خامنہ ای
ایران میں حالیہ احتجاج اور اموات، آیت اللّٰہ خامنہ ای کا امریکی صدر پر سخت الزام 6. امریکا ایران کشیدگی: خامنہ ای نے مظاہروں اور نقصانات کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہرا دیا
ایرانی مظاہروں میں جانی و مالی نقصان کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دے دیا گیا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے ملک میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کے دوران اموات، نقصانات اور ایرانی عوام پر الزامات عائد کیے جانے کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دے دیا ہے۔
اپنے بیان میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ ایران میں حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے ایران مخالف مظاہرے ماضی کے واقعات سے مختلف نوعیت کے تھے، جن میں امریکی صدر کی براہِ راست مداخلت شامل رہی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان واقعات کے ذریعے ایرانی قوم کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔
دوسری جانب، اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے پر کسی نے انہیں مجبور نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود یہ فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ایران میں مبینہ طور پر 800 افراد کو سزائے موت دیے جانے کا امکان تھا، تاہم ایسا نہیں ہوا، جس کے اثرات نمایاں رہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان شدید سفارتی اور سیاسی کشیدگی دیکھی گئی، جس کے باعث خطے میں ممکنہ امریکی کارروائیوں کے خدشات بھی سامنے آئے۔ تاہم صورتحال کشیدگی کے باوجود کسی عملی فوجی اقدام تک نہیں پہنچی۔



