
گرین لینڈ پر تنازع: ٹرمپ کی تجارتی پابندیوں کی وارننگ
گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم، ٹرمپ کا تجارتی ٹیرف کی دھمکی کا اشارہ
گرین لینڈ امریکی قومی سلامتی کے لیے اہم، صدر ٹرمپ کا تجارتی ٹیرف کی دھمکی کا اشارہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطہ امریکا کی قومی سلامتی کے لیے غیر معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دیگر ممالک نے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی حمایت نہ کی تو امریکا تجارتی پابندیاں اور ٹیرف عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ گرین لینڈ کی اسٹریٹیجک جغرافیائی پوزیشن اور قدرتی معدنی وسائل امریکا کے دفاعی اور معاشی مفادات کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر امریکا نے اس خطے میں کردار ادا نہ کیا تو قومی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق اس معاملے پر نیٹو اتحادیوں سے مشاورت جاری ہے، تاہم امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز استعمال کر سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر کرس کونز نے ان بیانات کو سیاسی بیان بازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گرین لینڈ ایک اتحادی خطہ ہے، کوئی ایسی جائیداد نہیں جس پر قبضے کی بات کی جائے۔ ان کے مطابق واشنگٹن میں دیے گئے کئی بیانات عملی حقیقت سے زیادہ سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔
ادھر ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے امریکی مؤقف کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ کے مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار صرف ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کے پاس ہے، کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق حاصل نہیں۔
اسی تناظر میں ڈنمارک نے اپنے اتحادی ممالک کے تعاون سے گرین لینڈ میں فوجی موجودگی بڑھانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ڈنمارک کی جوائنٹ آرکٹک کمانڈ کے سربراہ میجر جنرل سورن اینڈرسن نے واضح کیا کہ ان کی توجہ امریکا کے بجائے ممکنہ روسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔
میجر جنرل سورن اینڈرسن کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحادی ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کے فوجی تصادم کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور خطے میں استحکام برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔



