سلامتی کونسل کا اجلاس آج، امریکا کی فوجی تیاریوں میں تیزی
امریکی بحری بیڑا مشرق وسطیٰ روانہ، سلامتی کونسل کا اہم اجلاس طلب ایران سے متعلق خدشات، امریکا نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلوا لیا
امریکی درخواست پر سلامتی کونسل کا اہم اجلاس، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ
امریکا کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج منعقد ہونے جا رہا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر غور کیا جائے گا۔
ادھر امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جدید اسلحے سے لیس بحری بیڑہ یو ایس ایس ابراہم لنکن مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ اس بحری بیڑے میں کروز میزائل، جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے شامل ہیں، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل جنگ کے بجائے محدود لیکن فیصلہ کن فوجی کارروائی کے حامی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ امریکی حملوں میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کے بعض مراکز کو کروز میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشے کے باعث تہران میں برطانوی سفارتخانہ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے جبکہ برطانوی سفیر اور سفارتی عملہ ملک چھوڑ کر روانہ ہو چکا ہے۔
علاوہ ازیں بھارت، اسپین، اٹلی اور پولینڈ نے بھی اپنے شہریوں کو ایران سے فوری طور پر نکلنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ برطانیہ نے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے سے اپنے عملے کو واپس بلانے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔



