شہد کی مکھی انسان اور خلائی مخلوق کے درمیان عالمی زبان بن سکتی ہے؟
محققین اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ اگر کسی دن فلکیات دان کائنات میں موجود کسی ذہین مخلوق سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو انسان اُن سے مؤثر انداز میں کیسے بات چیت کرے گا۔
آسٹریلیا کے سائنس دانوں نے ایک دلچسپ اور غیر معمولی امکان پر تحقیق کی ہے، جس کے مطابق مستقبل میں انسانوں اور خلائی مخلوق کے درمیان رابطے کے لیے ایک مشترکہ عالمی زبان تیار کی جا سکتی ہے۔ اس تحقیق کی سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس تصور کی بنیاد شہد کی مکھی کے رویّے اور ذہانت پر رکھی گئی ہے۔
محققین اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے کہ اگر کسی دن فلکیات دان کائنات میں موجود کسی ذہین مخلوق سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو انسان اُن سے مؤثر انداز میں کیسے بات چیت کرے گا۔
اس مقصد کے لیے سائنس دانوں نے زمین پر موجود ایک ایسی مخلوق کا مطالعہ کیا جو انسانی ساخت اور سوچ سے بالکل مختلف ہے۔ ماہرین کے مطابق شہد کی مکھی کئی حوالوں سے کسی اجنبی مخلوق سے مشابہ ہے، کیونکہ اس کے چھ پاؤں، پانچ آنکھیں اور مکمل طور پر مختلف حیاتیاتی اور اعصابی نظام ہوتے ہیں۔
اگرچہ انسان اور شہد کی مکھی کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے، تاہم تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ دونوں میں کچھ بنیادی ذہنی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ حالیہ سائنسی تجربات کے مطابق شہد کی مکھیاں سادہ ریاضیاتی تصورات کو سمجھنے اور اعداد کے درمیان فرق محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اسی مشاہدے کی بنیاد پر ماہرین نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ ریاضی انسانوں اور ممکنہ خلائی مخلوق کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتی ہے، کیونکہ اعداد اور حساب کے اصول کائنات میں ہر جگہ یکساں رہتے ہیں۔
موناش یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر ایڈرین ڈائر کے مطابق انسان اور شہد کی مکھیاں ارتقائی سفر میں تقریباً 600 ملین سال کے فاصلے پر ہیں، جس کے باعث دونوں کی جسمانی بناوٹ، دماغی صلاحیت اور ثقافتی ترقی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس قدر فرق کے باوجود یہ بات حیرت انگیز ہے کہ دونوں مخلوقات میں اعداد اور ریاضی کی بنیادی سمجھ مشترک پائی جاتی ہے۔ تحقیق کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ شہد کی مکھیاں مخصوص علامات کو اعداد کے ساتھ جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ ریاضی کو ایک عالمی زبان سمجھنے کا نظریہ کوئی نیا نہیں، بلکہ یہ تصور پہلی بار 1974 میں پیش کیا گیا تھا۔ تاہم اُس وقت سائنس دانوں کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ آیا خلائی مخلوق بھی ریاضی کے بنیادی اصولوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہوگی یا نہیں۔



