
117 سالہ ماریہ برانیاس کی طویل عمری کا راز: نوجوان خلیات اور صحت مند طرزِ زندگی اہم وجہ قرار
دنیا بھر میں لوگ طویل عمر کے راز جاننے کے خواہش مند ہیں، مگر اب تک کوئی ایک ایسا حتمی فارمولا سامنے نہیں آ سکا جو انسان کو سو سال سے زائد عمر کی ضمانت دے سکے۔ تاہم دنیا کی معمر ترین خواتین میں شمار ہونے والی ماریہ برانیاس پر ہونے والی ایک تحقیق نے اس حوالے سے اہم اشارے ضرور فراہم کیے ہیں۔
سائنسدانوں نے ماریہ برانیاس کی صحت کا تفصیلی طبی معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ ان کے 117 سال تک زندہ رہنے کی ایک بڑی وجہ ان کے جسم کے خلیات کا غیر معمولی طور پر جوان ہونا تھا۔ تحقیق کے مطابق ان کے خلیات کی حیاتیاتی عمر ان کی اصل عمر کے مقابلے میں کہیں کم تھی۔
یہ تحقیق بارسلونا میں قائم جوزپ کیریرس لیوکیمیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سائنسدانوں کی ٹیم نے انجام دی۔ ماہرین کے مطابق ماریہ برانیاس کے جسم میں موجود خلیات نہ صرف متحرک تھے بلکہ بڑھاپے کے عام اثرات سے بھی بڑی حد تک محفوظ دکھائی دیتے تھے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج کو مستقبل میں بائیو مارکرز کی تیاری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو انسان کی عمر کے اندازے اور بڑھاپے کی رفتار جانچنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تحقیق انسانی عمر میں اضافے کے لیے ممکنہ طبی حکمتِ عملی تیار کرنے کی بنیاد بھی فراہم کر سکتی ہے۔
ماریہ برانیاس نے 2024 میں انتقال سے قبل رضاکارانہ طور پر اپنے خون، تھوک اور فضلے کے نمونے فراہم کیے تھے، جن کی مدد سے ماہرین نے ان کی مجموعی صحت، مدافعتی نظام اور جسمانی افعال کا تفصیلی تجزیہ کیا۔
سائنسدانوں کے مطابق بڑھاپے کے باوجود ان کی عمومی صحت غیر معمولی حد تک بہتر تھی۔ ان کے دل کی کارکردگی بہترین تھی جبکہ جسم میں سوزش کی سطح بھی انتہائی کم پائی گئی، جو طویل عمر کے لیے ایک مثبت علامت سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ماریہ برانیاس کی خوراک میں دہی کا زیادہ استعمال شامل تھا، جو آنتوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس لیے ان کی طویل عمری میں متوازن غذا کا کردار بھی اہم ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ماریہ برانیاس کی غیر معمولی عمر کا تعلق صرف ایک عنصر سے نہیں بلکہ ممکنہ طور پر جینیاتی خصوصیات، صحت مند ماحول اور بہتر طرزِ زندگی جیسے عوامل کے مجموعی اثر سے ہے۔ یہ دریافت طویل عمر کے راز کو سمجھنے کی جانب ایک اہم سائنسی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔



