
صرف ایک رات کی نیند سے 100 سے زائد بیماریوں کا پتا لگانے والا نیا اے آئی ماڈل تیار
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک جدید اے آئی ماڈل SleepFM صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر 100 سے زائد بیماریوں کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیا اے آئی ماڈل SleepFM ایک رات کی نیند سے 100 سے زائد بیماریوں کے خطرات کی پیش گوئی کر سکتا ہے
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک جدید اے آئی ماڈل SleepFM صرف ایک رات کی نیند کے ڈیٹا کی بنیاد پر 100 سے زائد بیماریوں کے ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ جدید ماڈل امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے محققین نے تیار کیا ہے۔ سلیپ ایف ایم ایک جدید لارج لینگویج ماڈل (LLM) ہے جو نیند کے دوران انسانی دماغی سرگرمی، دل کی دھڑکن، سانس لینے کے پیٹرن اور جسمانی حرکات کا تجزیہ کر کے مختلف بیماریوں کے امکانات کا اندازہ لگاتا ہے۔
یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے نیچر (Nature) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیقی رپورٹ کے مطابق سلیپ ایف ایم کو 5 لاکھ 80 ہزار گھنٹوں سے زیادہ نیند کے ڈیٹا پر تربیت دی گئی، جو 65 ہزار سے زائد مریضوں سے حاصل کیا گیا تھا۔ یہ ڈیٹا 1999 سے 2004 کے درمیان مختلف سلیپ کلینکس اور طبی مراکز سے اکٹھا کیا گیا، جہاں مریضوں کی نیند کی مکمل نگرانی کی جاتی تھی۔
محققین نے نیند کے ڈیٹا کو پانچ پانچ سیکنڈ کے حصوں میں تقسیم کیا، جو اے آئی ماڈل کے لیے ویسے ہی تھے جیسے زبان سیکھنے کے دوران الفاظ ہوتے ہیں۔ تحقیق کے شریک مصنف جیمز زو کے مطابق، “SleepFM دراصل نیند کی زبان کو سمجھنا سیکھ رہا ہے۔”
بیماریوں کی درست پیش گوئی کے لیے سلیپ ایف ایم کو صرف نیند کے ڈیٹا پر ہی نہیں بلکہ مریضوں کے میڈیکل ریکارڈز اور کلینیکل فائلوں کے ساتھ بھی تربیت دی گئی۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق یہ اے آئی ماڈل کم از کم 80 فیصد درستگی کے ساتھ پارکنسنز، ڈیمنشیا، الزائمر، ہائی بلڈ پریشر، دل کی بیماریوں، پروسٹیٹ کینسر اور بریسٹ کینسر جیسی سنگین بیماریوں کے خطرات کی پیش گوئی کرنے میں کامیاب رہا۔
تاہم محققین نے واضح کیا کہ کچھ بیماریوں کی تشخیص میں اس کی کارکردگی نسبتاً کم رہی۔ مثال کے طور پر گردوں کی دائمی بیماری، فالج (اسٹروک) اور دل کی بے ترتیب دھڑکن کی نشاندہی میں اس کی درستگی تقریباً 78.5 فیصد رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی ایک حد یہ بھی ہے کہ ڈیٹا ایسے سلیپ کلینکس سے لیا گیا جہاں مریض پہلے ہی مختلف طبی مسائل کا شکار تھے، اس لیے عام صحت مند آبادی پر اس ماڈل کی کارکردگی جانچنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اس کے باوجود محققین کا ماننا ہے کہ SleepFM مستقبل میں بیماریوں کی بروقت تشخیص، ابتدائی خطرات کی نشاندہی اور احتیاطی علاج کے میدان میں ایک انقلابی کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی صحت کے نظام کو زیادہ مؤثر، تیز اور جدید بنانے کی سمت ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔



