پاکستانٹائٹل

سعد رضوی اور انس رضوی کی گرفتاری تاحال معمہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے تین ماہ بعد بھی بے خبر

دونوں بھائی کسی بھی سیکیورٹی یا خفیہ ادارے کی حراست میں نہیں، بلکہ آزاد جموں و کشمیر کے کسی علاقے میں روپوش ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی اور ان کے بھائی انس رضوی کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں کوئی حتمی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔

یہ معاملہ ایک بار پھر اس وقت زیرِ بحث آیا جب سوشل میڈیا پر کالعدم مذہبی تنظیم سے منسوب ایک مبینہ بیان وائرل ہوا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ سعد رضوی اور انس رضوی اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں۔ تاہم سیکیورٹی ذرائع نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

سینئر قانون نافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ دونوں بھائی کسی بھی سیکیورٹی یا خفیہ ادارے کی حراست میں نہیں، بلکہ آزاد جموں و کشمیر کے کسی علاقے میں روپوش ہیں۔ ان کے مطابق سعد اور انس اس وقت فرار ہوئے تھے جب پنجاب پولیس نے مریدکے میں جی ٹی روڈ پر قائم ٹی ایل پی کے احتجاجی کیمپ کے خلاف علی الصبح آپریشن کیا تھا۔

ایک سینئر افسر کے مطابق، “ہم پورے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ سعد رضوی اور انس رضوی کسی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں اپنے حامیوں کے پاس پناہ لیے ہوئے ہیں۔” انہوں نے وائرل ہونے والے بیان کو جھوٹا، گمراہ کن اور خود ساختہ قرار دیا۔

ذرائع کے مطابق بیان سامنے آنے کے بعد ایک سینئر پنجاب افسر کو وفاقی حکام سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی ذمہ داری سونپی گئی۔ پنجاب پولیس نے اسلام آباد میں متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا کہ اگر دونوں بھائی کسی ادارے کی تحویل میں ہوں تو انہیں متعدد مقدمات میں باقاعدہ گرفتار کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی حکام نے واضح کیا کہ سعد اور انس کسی بھی ایجنسی کی تحویل میں موجود نہیں ہیں۔

حکام کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب قرار دیا جا چکا ہے، جن میں انسداد دہشت گردی سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق سعد اور انس کے خلاف شیخوپورہ میں 44 جبکہ لاہور میں 11 مقدمات درج ہیں، جن میں انہیں نامزد کیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ دونوں بھائی موبائل فون یا کسی بھی ڈیجیٹل رابطے کے ذریعے استعمال نہیں کر رہے، جس کے باعث ان کی لوکیشن ٹریس کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

ایک افسر نے بتایا کہ ملک بھر میں تمام دستیاب نظام اور وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور ریاستی اداروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں پاکستان کے اندر ہی موجود ہیں۔ ان کے بیرون ملک فرار ہونے کے امکانات کو رد کر دیا گیا ہے۔

پنجاب پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کئی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں جو مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز کر رہی ہیں۔

الزامات کے مطابق سعد رضوی اور انس رضوی نے مبینہ طور پر ٹی ایل پی کے کارکنوں اور شدت پسند عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور املاک کی توڑ پھوڑ پر اکسایا۔ لاہور اور شیخوپورہ میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے دوران ایک ایس ایچ او جاں بحق جبکہ درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ سعد رضوی اور انس رضوی نے اکتوبر میں لاہور سے اسلام آباد کی جانب نکالے گئے غزہ مارچ کی قیادت بھی کی تھی۔

دوسری جانب فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے بھی کارروائی کرتے ہوئے سعد رضوی سے منسوب تقریباً 95 بینک اکاؤنٹس کا سراغ لگایا ہے اور منی لانڈرنگ کے شبہے میں تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ادھر ذرائع ابلاغ کی جانب سے کالعدم ٹی ایل پی کے ترجمان یا نمائندوں سے رابطہ کر کے اس دعوے کی تصدیق کی کوشش کی گئی کہ سعد رضوی اور انس رضوی ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، تاہم فون کالز اور واٹس ایپ پیغامات کا کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔

یہ خبر اس وقت سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جہاں سعد رضوی اور انس رضوی کی مبینہ گرفتاری اور اصل ٹھکانے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button