
بھارت کا رواں سال خلا میں سیٹلائٹ بھیجنے کا پہلا بڑا مشن ناکامی سے دوچار ہو گیا ہے۔ بھارتی خلائی ایجنسی کے مطابق PSLV-C62 مشن کے دوران راکٹ کو تیسرے مرحلے میں سنگین تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث سیٹلائٹ کو مقررہ مدار میں پہنچایا نہ جا سکا۔
بھارتی خلائی ادارے کے سربراہ نے بتایا کہ لانچ کے بعد راکٹ کی کارکردگی معمول کے مطابق نہ رہی، جس کی وجہ سے مشن اپنے طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی خرابیوں کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ آئندہ ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق PSLV، جسے بھارت کا “ورک ہارس راکٹ” کہا جاتا ہے، حالیہ عرصے میں بار بار ناکامیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ میڈیا کے مطابق 18 مئی 2025 کو PSLV-C61 اور 12 جنوری 2026 کو PSLV-C62 کی لانچنگ بھی کامیاب نہ ہو سکی تھی۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ دونوں مواقع پر بھارت کے قومی سلامتی کے مقاصد کے لیے تیار کیے گئے لاکھوں ڈالر مالیت کے جدید سیٹلائٹ تباہ ہو گئے، جس سے نہ صرف مالی نقصان ہوا بلکہ بھارت کے خلائی پروگرام کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مسلسل ناکامیوں سے بھارتی خلائی پروگرام کو تکنیکی اور انتظامی سطح پر بڑے چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ مستقبل کے مشنز کی تیاری اور عالمی سطح پر اعتماد کی بحالی کے لیے سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔



