
ایران جنگ کے لیے مکمل تیار، مگر پیشگی حملے کا ارادہ نہیں: وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن بات چیت منصفانہ، باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم وہ کسی بھی قسم کی پیشگی فوجی کارروائی شروع کرنے کا خواہاں نہیں۔ تہران میں غیر ملکی سفیروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کے لیے پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے۔
عباس عراقچی نے گزشتہ برس جون میں اسرائیل کے ساتھ ہونے والی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اس وقت کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ تیار اور منظم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمنوں کو یہ پیغام واضح طور پر سمجھ لینا چاہیے کہ ایران اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔
وزیر خارجہ نے ملک میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سکیورٹی خدشات کے باعث کیا گیا ہے اور اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک مکمل طور پر یہ یقین نہ ہو جائے کہ مزید کوئی خطرہ موجود نہیں۔ ان کے مطابق موجودہ مظاہرے اب ایک حد تک دہشت گرد کارروائیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے دروازے بند نہیں کر رہا، لیکن بات چیت منصفانہ، باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ ایران کسی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ اور امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے کے ذرائع کھلے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق جب ضرورت ہوتی ہے، پیغامات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ابتدا میں ملک میں ہونے والے مظاہرے پرامن نوعیت کے تھے اور حکومت نے مظاہرین کے جائز مطالبات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے معاشی اصلاحات کا آغاز بھی کیا۔ تاہم دسمبر کے آخر تک احتجاج محدود رہا، جبکہ جنوری کے آغاز میں صورتحال بدل گئی اور بیرونی عناصر اور دہشت گرد گروہوں کی مداخلت سے مظاہرے پرتشدد اور خونریز بن گئے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعض مظاہرین کو اسلحہ فراہم کیا گیا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد جانی نقصان بڑھا کر امریکہ کو مداخلت کا جواز فراہم کرنا تھا۔ عراقچی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں نے تشدد کو مزید ہوا دی اور بعض عناصر کو اشتعال دلانے کا سبب بنیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کو قتل کیا، بعض کے گلے کاٹے گئے اور کچھ کو زندہ جلایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جن میں دکانیں، ہسپتال، بسیں اور تقریباً 350 مساجد شامل ہیں۔ زخمی افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا اور کئی شہری فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔
عراقچی نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد کو بھاری رقوم دے کر پولیس اسٹیشنوں اور دیگر حساس مقامات پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ حکومت نے سکیورٹی فورسز کو متحرک کرتے ہوئے دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کی، متعدد افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ جلد ہی گرفتار افراد کے اعترافی بیانات اور شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں گے اور تمام ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
وزیر خارجہ کے مطابق مظاہروں میں شامل تقریباً 70 فیصد افراد کو غیر ملکی عناصر نے اکسانے کی کوشش کی، جبکہ 30 فیصد مظاہرین پرامن تھے اور ان کے مطالبات جائز تھے۔ حکومت ان پرامن شہریوں کے حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور ان کے لیے قانونی اور عدالتی راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملک کی سکیورٹی صورتحال اب کنٹرول میں ہے اور حالات معمول پر آتے ہی انٹرنیٹ سروس بحال کر دی جائے گی تاکہ سرکاری ادارے، سفارت خانے اور دیگر شعبے معمول کے مطابق کام کر سکیں۔
آخر میں عباس عراقچی نے سفارتکاروں اور عوام کے صبر و تحمل پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور پرامن مظاہرین کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔



