ٹائٹلعالمی امور

ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ، دنیا کے کسی بھی ملک پر فوجی حملے کا حکم دے سکتا ہوں

امریکی صدر کا متنازع بیان، دنیا بھر میں فوجی کارروائی کا مکمل اختیار ہونے کا دعویٰ ٹرمپ نے فوجی اختیارات پر خاموشی توڑ دی، خود کو فیصلہ کن اتھارٹی قرار دے دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ، فوجی کارروائی کے مکمل اختیارات اپنے ہاتھ میں ہونے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دنیا کے کسی بھی ملک کے خلاف امریکی فوجی کارروائی یا جارحیت کا حکم دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بحیثیت کمانڈر اِن چیف وہ خود ہی یہ طے کرتے ہیں کہ ان کے اختیارات کی حدود کہاں تک ہیں۔

اپنے حالیہ بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں کسی بیرونی طاقت یا ادارے نے نہیں بلکہ صرف ان کی ذاتی سوچ، اخلاقیات اور فیصلہ سازی ہی روکتی ہے۔ ان کے بقول، صدر کی حیثیت سے فوجی طاقت کے استعمال کا حتمی فیصلہ ان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے وینزویلا سے متعلق اپنے عزائم کا بھی اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات میں براہِ راست کردار ادا کرنے اور وہاں کے تیل کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کے امکانات پر غور کر چکے ہیں۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ نے صدر ٹرمپ کو وینزویلا کے خلاف مزید فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے ایک قرارداد کو بحث کے لیے منظور کر لیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس قرارداد کی حمایت میں ری پبلکن پارٹی کے پانچ سینیٹرز نے بھی ووٹ دیا، جو امریکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ادھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وینزویلا سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہاں کارروائی کی گئی تو اس کے فوائد براہِ راست امریکی عوام کو حاصل ہوں گے۔ ان کے مطابق امریکا وینزویلا کے قدرتی وسائل پر کنٹرول حاصل کر سکتا ہے اور اپنے مخالفین پر برتری قائم کر سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صدر ٹرمپ اور امریکی انتظامیہ کے یہ بیانات وینزویلا کے معاملے پر واشنگٹن کی جارحانہ پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، جس پر اندرونِ امریکا اور عالمی سطح پر شدید بحث جاری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button