
پی ایس ایل میں دو نئی ٹیموں کا اضافہ، سیالکوٹ اور حیدرآباد فرنچائزز ریکارڈ بولیوں پر فروخت
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں دو نئی ٹیموں کے باضابطہ اضافے کے بعد لیگ میں فرنچائزز کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔ اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں ہونے والی نیلامی کے دوران سیالکوٹ اور حیدرآباد کی فرنچائزز ریکارڈ قیمتوں پر فروخت ہوئیں۔
سیالکوٹ کی فرنچائز او زی ڈویلپرز نے 1 ارب 85 کروڑ روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر حاصل کی، جو پی ایس ایل کی تاریخ کی اب تک کی مہنگی ترین فرنچائز ڈیل قرار دی جا رہی ہے۔ اس فرنچائز کے لیے او زی ڈویلپرز اور سافٹ ویئر کمپنی آئی ٹو سی کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جہاں آئی ٹو سی کی آخری بولی 1 ارب 82 کروڑ روپے رہی۔
اس سے قبل نیلامی کے ابتدائی مرحلے میں ایف کے ایس گروپ نے حیدرآباد کی فرنچائز 1 ارب 75 کروڑ روپے میں اپنے نام کی۔ اس بولی میں بھی آئی ٹو سی شریک تھا، جس کی آخری پیشکش 1 ارب 70 کروڑ روپے تک پہنچی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ساتویں ٹیم کی بنیادی قیمت 1 ارب 10 کروڑ روپے جبکہ آٹھویں ٹیم کی ریزرو قیمت 1 ارب 70 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم دونوں فرنچائزز متوقع قیمت سے کہیں زیادہ رقم میں فروخت ہوئیں۔
حیدرآباد اور سیالکوٹ پہلی مرتبہ پی ایس ایل کا حصہ بنے ہیں، جو 2015 میں لیگ کے آغاز کے بعد ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
پی ایس ایل کا رواں سیزن 26 مارچ سے 3 مئی تک شیڈول ہے، جبکہ نئی ٹیموں کے اضافے سے لیگ کی تجارتی اور مسابقتی قدر میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
فرنچائز کے لیے جن شہروں پر غور کیا گیا، ان میں فیصل آباد، گلگت، حیدرآباد، مظفرآباد، راولپنڈی اور سیالکوٹ شامل تھے، تاہم حتمی طور پر حیدرآباد اور سیالکوٹ کا انتخاب کیا گیا۔
اس وقت پی ایس ایل میں شامل ٹیموں میں لاہور قلندرز، اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز، کراچی کنگز اور ملتان سلطانز شامل ہیں، جبکہ نئی فرنچائزز کے بعد لیگ مزید وسعت اختیار کر گئی ہے۔
نیلامی میں حصہ لینے والے اداروں میں ایف کے ایس گروپ، او زی ڈویلپرز، ایم نیکسٹ انک، ڈہرکی شوگر ملز، انویریکس سولر، آئی ٹو سی، جاز، پرزم ڈویلپرز، وی جی او ٹیل اور ولی پاکستان شامل تھے۔
نیلامی کی میزبانی سابق قومی کپتان اور معروف کمنٹیٹر وسیم اکرم نے کی، جبکہ پی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹو سلمان نصیر بھی ان کے ہمراہ اسٹیج پر موجود رہے۔ سلمان نصیر نے اس موقع پر کہا کہ پی ایس ایل کے دس سال اس تاریخی مرحلے تک پہنچنے کا سفر ہیں، جبکہ وسیم اکرم نے بولی دہندگان کو بتایا کہ فرنچائز کی ملکیت صرف ٹیم خریدنے تک محدود نہیں بلکہ یہ برانڈ، کھلاڑیوں اور شائقین سے جڑنے کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
نیلامی سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی نے رائزنگ اسٹار ایشیا کپ جیتنے والی ٹیم کو 9 کروڑ روپے اور ہانگ کانگ سکسز جیتنے والی ٹیم کو 1 کروڑ 85 لاکھ روپے کا نقد انعام بھی دیا۔
واضح رہے کہ بولی جمع کرانے کی آخری تاریخ میں متعدد بار توسیع کی گئی۔ ابتدائی طور پر ڈیڈ لائن 15 دسمبر مقرر تھی، جسے پہلے 22 دسمبر اور بعد ازاں 24 دسمبر تک بڑھایا گیا۔ اس کی وجہ یورپ، امریکا اور مشرق وسطیٰ سے سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی تھی، جسے لندن اور نیویارک میں ہونے والے پی ایس ایل روڈ شوز نے مزید تقویت دی۔



