ٹائٹلکھیل

بنگلہ دیش میں آئی پی ایل کی نشریات اور تشہیر معطل، مستفیض الرحمٰن تنازع کے بعد بڑا حکومتی فیصلہ

بنگلہ دیشی حکومت نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی نشریات اور اس سے متعلق تشہیری سرگرمیوں پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ اقدام بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے اسکواڈ سے نکالے جانے کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق مستفیض الرحمٰن کو آئی پی ایل ٹیم سے باہر کرنے کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی، جس کے باعث بنگلہ دیش میں شائقین کرکٹ اور عوامی حلقوں میں بے چینی اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں وزارتِ اطلاعات و نشریات نے آئی پی ایل میچز کی نشریات روکنے کا فیصلہ کیا۔

وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عوامی جذبات اور قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ بیان پر وزارت کے اسسٹنٹ سیکریٹری فیروز خان کے دستخط موجود ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے فیصلے نے بنگلہ دیشی عوام کو حیرت اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد کیا، جس کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے باضابطہ درخواست کی گئی کہ آئندہ ماہ کولکتہ میں ہونے والے بنگلہ دیش کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ واضح رہے کہ یہ ٹورنامنٹ 7 فروری سے 8 مارچ تک کھیلا جائے گا، جس کی میزبانی بھارت اور سری لنکا مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین الاسلام بلبُل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کی عزت، تحفظ اور وقار بورڈ کی اولین ترجیح ہے، اور تمام فیصلے اسی اصول کے تحت کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ مستفیض الرحمٰن کو دسمبر میں ہونے والی آئی پی ایل نیلامی کے دوران کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے ایک ملین ڈالر سے زائد رقم میں خریدا تھا، جبکہ وہ اس سے قبل بھی مختلف آئی پی ایل فرنچائزز کی نمائندگی کر چکے ہیں۔

کرکٹ ذرائع کے مطابق 2008 میں آئی پی ایل کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بنگلہ دیش میں کسی بین الاقوامی کرکٹ ایونٹ کی نشریات پر حکومتی سطح پر پابندی لگائی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button