
ٹرمپ کی دھمکیوں پر کولمبیا کے صدر کا سخت ردعمل، ہتھیار اٹھانے کا اعلان
امریکی دباؤ کے خلاف کولمبیا کا سخت مؤقف، صدر پیٹرو کا غیر معمولی اعلان ٹرمپ بمقابلہ پیٹرو: لاطینی امریکا میں نئی سیاسی کشیدگی
ٹرمپ کی دھمکیوں پر کولمبیا کے صدر کا سخت ردعمل، ہتھیار اٹھانے کا اعلان
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے بعد سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وطن کے دفاع کے لیے دوبارہ ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دارالحکومت بوگوٹا سے جاری بیان میں صدر پیٹرو نے کہا کہ وہ اس بات کی قسم کھا چکے تھے کہ زندگی میں دوبارہ کبھی اسلحہ نہیں اٹھائیں گے، تاہم موجودہ حالات میں ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے یہ فیصلہ بدلنا پڑ سکتا ہے۔
صدر پیٹرو کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی حالیہ دھمکیاں اور خطے میں بڑھتی فوجی سرگرمیاں انہیں اس نتیجے پر پہنچا رہی ہیں کہ کولمبیا کو اپنے دفاع کے لیے ہر آپشن پر غور کرنا ہوگا۔ ان کا اشارہ اس واقعے کی جانب تھا جس میں دو روز قبل امریکی فوجی کارروائی کے دوران وینزویلا کے صدر کو گرفتار کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا۔
کولمبیا کے صدر ایک سابق گوریلا رہنما رہ چکے ہیں اور حالیہ مہینوں میں وہ مسلسل صدر ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات اور ذاتی نوعیت کی تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ صدر پیٹرو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری پیغام میں کہا کہ انہوں نے ماضی میں تشدد سے کنارہ کشی کا عہد کیا تھا، مگر وطن کی خاطر وہ ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کولمبیا کے پہلے بائیں بازو کے صدر کو اب اپنی سلامتی کے بارے میں فکر کرنی چاہیے۔ ٹرمپ نے صدر پیٹرو کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتے ہوئے انہیں ذہنی طور پر بیمار قرار دیا اور منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ جیسے الزامات بھی عائد کیے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لاطینی امریکا میں سیاسی تناؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور امریکا کے خطے میں کردار پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔



