
امریکی دعوے کے بعد اہم سوال، مادورو کے بعد وینزویلا کون سنبھالے گا؟
لاطینی امریکہ میں بڑی تبدیلی؟ مادورو کی برطرفی کے ممکنہ اثرات وینزویلا کا مستقبل غیر یقینی، مادورو کے اقتدار کے خاتمے کے دعوے پر بحث
اگر نکولس مادورو اقتدار سے ہٹا دیے گئے تو وینزویلا کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے؟
اگر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو واقعی اقتدار سے زبردستی ہٹا دیے گئے ہیں، جیسا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں، تو یہ لاطینی امریکہ کی سیاست میں ایک بڑی اور غیر معمولی تبدیلی تصور کی جائے گی۔ ماضی میں امریکہ نے سنہ 1989 کے بعد اس نوعیت کی براہِ راست کارروائی نہیں کی، جب پاناما میں فوجی مداخلت کے ذریعے جنرل مانوئل نوریگا کو اقتدار سے الگ کیا گیا تھا۔
امریکی انتظامیہ کے وہ حلقے جو طویل عرصے سے وینزویلا میں حکومت کی تبدیلی کے حامی رہے ہیں، مادورو کی مبینہ برطرفی کو اپنی پالیسی کی بڑی کامیابی قرار دے سکتے ہیں۔ امریکہ پہلے ہی صدر مادورو پر منشیات اسمگلنگ نیٹ ورک کی سرپرستی کے الزامات عائد کر چکا ہے، جنہیں مادورو مسترد کرتے آئے ہیں۔
واشنگٹن حکومت سنہ 2024 کے وینزویلا صدارتی انتخابات کے بعد بھی نکولس مادورو کو ملک کا قانونی صدر تسلیم نہیں کرتی، کیونکہ ان انتخابات پر شفافیت اور منصفانہ عمل سے متعلق سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔
دوسری جانب وینزویلا کی حکومت یہ موقف اختیار کرتی رہی ہے کہ امریکہ دراصل ملک کے وسیع تیل کے ذخائر پر اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتا ہے، جو دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر میں شمار ہوتے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ اگر صدر مادورو واقعی اقتدار سے باہر ہو چکے ہیں تو وینزویلا میں آئندہ سیاسی منظرنامہ کیا شکل اختیار کرے گا۔ امریکی مداخلت کے حامیوں کے مطابق اس صورتِ حال سے وینزویلا کی اپوزیشن کو اقتدار میں آنے کا موقع مل سکتا ہے، جس کی قیادت نوبیل امن انعام یافتہ رہنما ماریا کورینا ماچادو یا اپوزیشن کے صدارتی امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کر سکتے ہیں۔
تاہم کئی سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اقتدار کی منتقلی کا عمل اتنا سادہ نہیں ہو گا۔ وینزویلا کی فوج اور نیم فوجی تنظیمیں اب تک صدر مادورو کی وفادار رہی ہیں، جبکہ خود ان کے بعض ناقدین بھی خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ براہِ راست امریکی مداخلت ملک میں مزید سیاسی اور سماجی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔
مزید برآں، صدر مادورو کے قریبی اتحادی اور حکومتی عہدیدار بھی ایسی کسی پیش رفت کی صورت میں اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں۔



