پاکستانٹائٹل

نو مئی کیس: عادل راجہ، صابر شاکر، معید پیرزادہ سمیت دیگر کو دو، دو بار عمر قید

9 مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس کا فیصلہ، اسلام آباد عدالت نے ملزمان کو عمر قید سنا دی انسداد دہشت گردی عدالت: نو مئی ڈیجیٹل کیس میں سوشل میڈیا کرداروں کو سخت سزائیں

 

نو مئی ڈیجیٹل دہشت گردی کیس: انسداد دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ، متعدد ملزمان کو دوہری عمر قید

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نو مئی 2023 کو ریاستی اداروں کے خلاف مبینہ ڈیجیٹل دہشت گردی کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے صحافی اور یوٹیوبرز صابر شاکر، عادل راجہ، حیدر مہدی، معید پیرزادہ، وجاہت سعید اور دیگر ملزمان کو دو، دو بار عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے ملزمان پر لاکھوں روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق کیس کا ٹرائل مکمل ہونے کے بعد جمعے کے روز فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، جسے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سنایا۔ فیصلے کے تحت ملزمان کو دیگر دفعات میں بھی مجموعی طور پر 35 سال قید کی سزائیں دی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

یہ مقدمہ نو مئی 2023 کو ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے مبینہ اشتعال انگیز مواد پھیلانے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں سے متعلق تھا۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزمان نے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہوئے عوامی نظام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کی۔

استغاثہ کی جانب سے عدالت میں مجموعی طور پر 24 گواہان کے بیانات قلمبند کرائے گئے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ میں درج مقدمے میں صابر شاکر، معید پیرزادہ اور سید اکبر حسین کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ تھانہ رمنا کے مقدمے میں شاہین صبہائی، حیدر مہدی اور وجاہت سعید کو سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔

عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر ملزمان کی عدم موجودگی میں ٹرائل مکمل کیا۔ انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت ایسے مقدمات میں غیر حاضری کے باوجود کارروائی کی اجازت دی جاتی ہے۔

کیس کی پیروی پراسیکیوشن کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی نے کی، جبکہ ملزمان کی نمائندگی ایڈووکیٹ گلفام اشرف گورائیہ نے کی، جنہیں عدالت کی جانب سے سرکاری طور پر وکیل مقرر کیا گیا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button