ٹائٹلعالمی امورمشرقِ وسطیٰ

ایران: احتجاجی مظاہروں میں تشدد پھیلانے کی سازش بے نقاب، سکیورٹی ادارے متحرک

ایرانی احتجاجات میں بیرونی حمایت یافتہ عناصر ناکام، قومی سلامتی محفوظ صدر پزشکیان کا ردعمل: عوامی مطالبات پر معاشی اصلاحات کا وعدہ

ایران میں پرامن احتجاج کو تشدد میں بدلنے کی کوششیں ناکام، عوام اور سکیورٹی اداروں کا ذمہ دارانہ کردار

ایران میں حالیہ دنوں کے دوران ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں گزشتہ ادوار کے مقابلے میں عوامی شرکت نسبتاً کم دیکھی گئی۔ اگرچہ احتجاج اور اختلافِ رائے کا اظہار ہر معاشرے میں عوام کا بنیادی حق سمجھا جاتا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق ایران کی صورتحال کو دیگر ممالک سے ممتاز بنانے والا پہلو یہ ہے کہ بعض منظم اپوزیشن اور دہشت گرد نیٹ ورکس بھی متحرک رہتے ہیں، جنہیں بیرونی حمایت حاصل ہونے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔

ملک کے مشرقی اور مغربی حصوں میں سرگرم بعض مسلح گروہ، شاہ پرست حلقے اور ماضی میں بدامنی پھیلانے کی اپیلیں کرنے والے عناصر نے حالیہ پرامن احتجاجی فضا کو اپنے مخصوص مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ تاہم مثبت پہلو یہ رہا کہ ایرانی عوام کی اکثریت نے شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے اظہار کے ساتھ ایسے مشکوک عناصر سے فاصلہ قائم رکھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عوام کا یہ رویہ سماجی پختگی اور بیرونی مداخلت سے متعلق آگاہی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں کا پیشہ ورانہ اور بردبار طرزِ عمل بھی نمایاں رہا۔ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے غیر ضروری تصادم سے گریز کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول میں رکھا اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکے رکھا۔

تاہم بعض علاقوں میں شرپسند عناصر کی جانب سے حساس مقامات، بالخصوص پولیس مراکز کے قریب پہنچنے کی کوششیں رپورٹ ہوئیں، جو کسی بھی وقت صورتحال کو سنگین بنا سکتی تھیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ گرفتاریوں میں شامل کچھ افراد مکمل طور پر تربیت یافتہ تھے اور شناخت سے بچنے کے لیے جدید ذرائع استعمال نہیں کر رہے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افراد کو عوام کو مشتعل کرنے اور پرامن مظاہروں کو پرتشدد رخ دینے کی باقاعدہ تربیت دی گئی تھی۔ ان گروہوں میں خواتین کی شمولیت بھی سامنے آئی ہے، جبکہ منصوبہ بندی اس انداز سے کی گئی تھی کہ احتجاجی سرگرمیوں کو رات گئے تک طول دیا جائے، جو عام شہری مظاہروں کے دائرے سے باہر سمجھا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق گرفتار کیے گئے متعدد نیٹ ورکس منظم انداز میں کام کر رہے تھے اور ان کا مقصد اشتعال انگیز کارروائیوں کے ذریعے پولیس کو سخت ردعمل پر مجبور کرنا تھا تاکہ سماجی ماحول کو عدم استحکام کا شکار کیا جا سکے۔

مجموعی طور پر مبصرین کا ماننا ہے کہ عوام کی ہوشیاری اور پولیس کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے ان منصوبوں کو ناکام بنانے اور قومی سلامتی کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

دوسری جانب تاجروں، کاروباری طبقے اور معاشی شعبے سے وابستہ افراد کے احتجاج کے بعد ایرانی حکومت نے عوام کے احتجاجی حق کو تسلیم کرتے ہوئے معاشی اصلاحات کے نفاذ کا عندیہ دیا ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق اقتصادی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صورتحال کو درست سمت میں لے جایا جا سکے۔

ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ عوام کی معاشی حالت ان کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق مالی اور بینکاری نظام میں اصلاحات اور عوام کی قوتِ خرید کے تحفظ کے لیے بنیادی اقدامات حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔

صدر نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ مظاہرین کے نمائندوں سے براہِ راست بات چیت کی جائے، ان کے جائز مطالبات سنے جائیں اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اور ذمہ دارانہ اقدامات کیے جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button