ٹائٹلعالمی امورمشرقِ وسطیٰ

سعودی الٹی میٹم کو ابھی 24 گھنٹے بھی نہ گزرے کہ امارات نے گھٹنے ٹیک دیئے

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعات کے تناظر میں یمن میں موجود اپنی افواج کے مشنز کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی عرب کے الٹی میٹم کو ابھی 24 گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ عرب امارات نے گھٹنے ٹیک دیئے اور یمن سے اپنی فوجوں کی واپسی کا اعلان کر دیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے یمن میں پیش آئے حالیہ واقعات کے تناظر میں یمن میں موجود اپنی افواج کے مشنز کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اماراتی وزارت دفاع کے مطابق یمن میں حالیہ پیش رفت، اپنے اہلکاروں کی سلامتی اور متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی غرض سے یو اے ای یمن میں موجود اپنی انسدادِ دہشت گردی ٹیموں کو اپنی مرضی سے ختم کر رہا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام موجودہ تقاضوں کے جامع جائزے کے تحت کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے یمن میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے مبینہ ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے مطالبہ کیا تھا کہ یو اے ای یمن کی درخواست پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹے میں یمن سے اماراتی فوجیوں کو واپس بُلائے۔

یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے یمن کی مکلا بندرگاہ پر ایک محدود فضائی کارروائی کی، جس میں مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے آنے والے ہتھیاروں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔


مکلا بندرگاہ پر حملہ کیوں کیا گیا؟

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق اتحاد کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ مکلا بندرگاہ پر بغیر اجازت اماراتی جہازوں کے ذریعے اسلحہ اور جنگی گاڑیاں اتاری جا رہی تھیں۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ساز و سامان سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کو فراہم کیا جا رہا تھا، جو یمن کے جنوب میں علیحدگی پسند تحریک چلا رہی ہے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان کے مطابق فجیرہ بندرگاہ (یو اے ای) سے آنے والے دو بحری جہازوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے اور خفیہ طور پر مکلا بندرگاہ میں داخل ہو کر عسکری سامان اتارا۔ اسی بنیاد پر کارروائی کو ضروری قرار دیا گیا۔


سعودی عرب اور یو اے ای آمنے سامنے کیوں؟

یمن کے تنازع میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ابتدا میں ایک ہی اتحاد کا حصہ تھے، تاہم وقت کے ساتھ دونوں ممالک کی ترجیحات مختلف ہو گئیں۔

  • سعودی عرب: بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور اس کی افواج کا حامی

  • متحدہ عرب امارات: جنوبی یمن میں سرگرم علیحدگی پسند گروہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کی حمایت

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ایس ٹی سی کو فوجی مدد دینا نہ صرف یمن کی خودمختاری بلکہ سعودی عرب کی قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے، خاص طور پر حضرموت اور المہرا جیسے سرحدی اور سٹریٹیجک صوبوں میں۔


سعودی عرب کا سخت پیغام

سعودی عرب نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ:

  • اتحاد کے اصولوں کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی

  • یمن میں کسی بھی غیر ریاستی گروہ کو عسکری امداد خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے

  • ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ یمن بحران کا مستقل حل جامع سیاسی مکالمہ ہے، جس میں تمام فریقین شامل ہوں، تاہم اس عمل کو طاقت کے زور پر متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔


یمن کی جنگ: پس منظر اور موجودہ صورت حال

یمن 2014 سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے:

  • حوثی باغی شمالی یمن اور دارالحکومت صنعا پر قابض

  • سعودی اتحاد حوثیوں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا

  • ایس ٹی سی نے بعد میں جنوبی یمن میں خودمختاری کا مطالبہ کر دیا

ایس ٹی سی اب یمن کے جنوبی علاقوں کے بڑے حصے، بشمول سٹریٹیجک حضرموت، پر کنٹرول رکھتا ہے، جو سعودی عرب کی سرحد کے قریب واقع ہے۔


امارات کا مؤقف تاحال سامنے نہیں آیا

اس تمام پیش رفت کے باوجود متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل یا وضاحت جاری نہیں کی گئی، جس سے خطے میں بے یقینی مزید بڑھ گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب اور یو اے ای کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آتے رہے تو یمن کی جنگ مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور خلیجی اتحاد کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button