تحقیقاتی رپورٹسٹائٹل

’پاکستان کی دوست‘ خالدہ ضیا، بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کی مکمل کہانی

دو بار وزیراعظم رہنے والی خالدہ ضیا کا انتقال، بنگلہ دیش سوگ میں گھریلو خاتون سے وزیراعظم تک: خالدہ ضیا کا غیر معمولی سفر اختتام کو پہنچا

پاکستان کی دوست‘ بیگم خالدہ ضیا کا انتقال: بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کی سیاسی جدوجہد پر ایک نظر

بنگلہ دیش کی سیاست کی اہم اور تاریخی شخصیت، ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ طویل عرصے سے شدید علیل تھیں اور دارالحکومت ڈھاکہ کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھیں۔ ان کی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے تصدیق کی ہے کہ وہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چھ بجے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

بی این پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی اپنی قائدہ کی وفات پر گہرے دکھ اور صدمے میں ہے، جبکہ ملک بھر میں ان کے چاہنے والوں میں سوگ کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ ان کے معالجین کے مطابق پیر کی شب ان کی حالت نہایت تشویشناک ہو چکی تھی اور عمر و بیماری کے باعث صحت سنبھل نہ سکی۔

پاکستان سے گہرے تعلقات

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بیگم خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیتی پیغام جاری کرتے ہوئے انہیں ’’پاکستان کی دوست‘‘ قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس دکھ کی گھڑی میں بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔

چار دہائیوں پر محیط سیاسی سفر

بیگم خالدہ ضیا گزشتہ تقریباً 40 برس تک بنگلہ دیش کی سیاست میں متحرک رہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر اور سابق صدر جنرل ضیا الرحمان کی شہادت کے بعد سیاست میں قدم رکھا اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت سنبھالی۔

1991 میں عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں۔ ان کے پہلے دورِ حکومت میں ملک میں صدارتی نظام کے خاتمے اور پارلیمانی جمہوریت کی بحالی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی، جسے پارلیمنٹ کی بھاری اکثریت نے منظور کیا۔

بعد ازاں 2001 میں وہ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوئیں اور 2006 تک اقتدار میں رہیں۔ ان کا سیاسی دور بدعنوانی کے الزامات، شدید سیاسی محاذ آرائی اور عوامی لیگ کے ساتھ طویل رقابت کے باعث متنازع بھی رہا۔

جیل، مقدمات اور سیاسی مزاحمت

شیخ حسینہ واجد کے اقتدار میں آنے کے بعد بیگم خالدہ ضیا کو مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور 2018 میں انہیں قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ طویل بیماری کے باعث وہ بعد میں اسپتال منتقل ہوئیں۔ عبوری حکومت کے قیام کے بعد ان کے اور ان کے صاحبزادے طارق رحمان کے خلاف مقدمات ختم کر دیے گئے۔

گھریلو خاتون سے وزیراعظم تک

اصل نام خالدہ خانم رکھنے والی بیگم خالدہ ضیا ایک گھریلو زندگی گزار رہی تھیں۔ 1960 میں ان کی شادی پاکستانی فوجی افسر ضیا الرحمان سے ہوئی، جو بعد ازاں بنگلہ دیش کے صدر بنے۔ 1981 میں شوہر کی شہادت کے بعد انہوں نے غیر متوقع طور پر سیاست کا رخ کیا اور ایک قدامت پسند معاشرے میں خود کو ایک مضبوط سیاسی قائد کے طور پر منوایا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، اگرچہ انہیں قیادت وراثت میں ملی، تاہم انہوں نے اپنی سیاسی صلاحیت اور فیصلہ سازی سے پارٹی کو مستحکم کیا اور خود کو ایک مؤثر رہنما ثابت کیا۔

انڈیا اور خطے کی سیاست

خالدہ ضیا کے ادوارِ حکومت میں بنگلہ دیش اور انڈیا کے تعلقات میں سرد مہری رہی، تاہم 2015 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ڈھاکہ کے دورے کے دوران ان سے ملاقات بھی کی، جو خطے کی سیاست میں ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا گیا۔

موجودہ سیاسی منظرنامہ

حال ہی میں ان کے صاحبزادے طارق رحمان 17 برس بعد جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تھے۔ بنگلہ دیش میں فروری میں ہونے والے عام انتخابات کے تناظر میں بی این پی ایک اہم سیاسی قوت بن کر ابھر رہی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ حالات میں پارٹی کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔

بیگم خالدہ ضیا کا انتقال بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک عہد کے خاتمے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، جن کی جدوجہد، کامیابیاں اور تنازعات ہمیشہ ملکی تاریخ کا حصہ رہیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

Back to top button