
ٹرمپ نے روایتی بحریہ پروٹوکول توڑ دیا، اپنے نام سے جدید جنگی جہاز بنانے کا فیصلہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نئی بحری جنگی جہاز کلاس کو اپنے نام “Trump-class” دینے کا اعلان کیا، جس سے روایتی پروٹوکول توڑا گیا ہے۔ منصوبہ ہے کہ 25 جدید جنگی جہاز اس نئے نام کے تحت تیار کیے جائیں گے، جبکہ 30 سفیروں کی تبدیلی بھی کی جا رہی ہے — ایک ایسا اقدام جس نے دنیا بھر میں حیرت اور سسپنس پیدا کر دیا ہے۔
ٹرمپ کا غیر معمولی فیصلہ: خود کے نام پر نئے جنگی بحری جہاز بنانے کا اعلان
دنیا بھر میں سیاسی و عسکری تجزیہ کار حیران ہیں کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ایک غیر معمولی اور متنازع اعلان کیا ہے — نئے جدید جنگی بحری جہازوں کو اپنے نام “Trump-class Battleships” دینے کا فیصلہ۔ The Guardian
یہ فیصلہ روایتی امریکی بحریہ کی روایت کو توڑتا ہے، جس میں عام طور پر جہازوں کے نام ریاستوں یا قومی ہیروز کے نام پر رکھے جاتے تھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق یہ جہاز پچھلی نسلوں سے کہیں زیادہ طاقتور اور جدید ہوں گے، اور ان میں 25 تک کے بیٹل کلاس جہاز شامل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ The Guardian
ساتھ ہی، صدر ٹرمپ نے 30 سفیروں کو تبدیل کرنے کا اعلان بھی کیا، جس سے سفارتی پروٹوکول میں غیر معمولی تبدیلیاں سامنے آئیں۔ اسی سلسلے میں کئی ممالک نے اپنے ردعمل کا اظہار بھی شروع کر دیا ہے۔ The Guardian
یہ قدم غیر معمولی طور پر سیاسی، عسکری اور سفارتی سطح پر بھاری ردعمل کا باعث بن سکتا ہے، جس سے اگلے چند ہفتوں میں عالمی تعلقات میں بھی تبدیلیاں متوقع ہیں۔



