
ایران کی اصل میزائل صلاحیت ابھی باقی، تھاڈ سسٹم ناکام رہا: ایرانی فوج
پوری میزائل طاقت استعمال نہیں کی، وقت آیا تو دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے: جنرل شکارچی
ایرانی مسلح افواج کے سینئر ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے کہا ہے کہ ایران نے اب تک اپنی اصل میزائل طاقت استعمال نہیں کی، تاہم اگر ضرورت پڑی تو دشمن پر قہر بن کر ٹوٹ پڑیں گے۔ ان کے مطابق ایران کے بحری اور زمینی میزائل تمام ممکنہ جنگی منظرناموں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
جنرل شکارچی نے انکشاف کیا کہ امریکی ساختہ جدید ترین فضائی دفاعی نظام تھاڈ (THAAD) ایرانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا، جبکہ اس کے مقابلے میں کم لاگت والا ایرانی فتاح میزائل جدید عالمی دفاعی نظاموں کو عبور کرنے میں کامیاب رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی میزائلوں نے اپنے اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران بھی ایران کی فوجی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوئیں اور گزشتہ 12 دنوں میں ملک کی مجموعی فوجی قوت میں مزید اضافہ ہوا۔ جنرل شکارچی کے مطابق بحری، زمینی اور رضاکار فورسز کی بڑی صلاحیت تاحال غیر متحرک رہی، جو ایران کی اسٹریٹجک برتری کو ظاہر کرتی ہے۔
ایرانی ترجمان نے دشمن کی نئی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل براہِ راست جنگ کے بجائے میڈیا اور پروپیگنڈا وار کے ذریعے سرد جنگ کو فروغ دے رہے ہیں، جس کا مقصد عوامی حوصلے کو کمزور کرنا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران پر بلاجواز جارحیت کی، جس کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ چھڑ گئی۔ اس دوران کم از کم 1,064 افراد شہید ہوئے، جن میں فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدان اور عام شہری شامل تھے۔ جواب میں ایران نے اسرائیلی اور امریکی فوجی مراکز پر مؤثر حملے کیے، جس کے بعد تل ابیب کو معاہدے پر مجبور ہونا پڑا۔
جنرل شکارچی کے مطابق اس جنگ میں اسرائیل کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ فوجی کارروائیوں پر 12.2 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جبکہ معیشت اور کاروباری سرگرمیوں میں 21.4 ارب ڈالر کا خلل آیا۔ ایرانی حملوں سے 4.5 ارب ڈالر کا براہِ راست نقصان ہوا، جبکہ نقل مکانی اور بحالی پر مزید 2 ارب ڈالر خرچ کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل معاشی، فوجی اور سماجی سطح پر شدید دباؤ کا شکار رہا۔ طویل المدتی اثرات میں بجٹ خسارہ، معاشی سست روی، سیاحت کی زبوں حالی، ماہرین کی ہجرت اور سرمایہ کاری کے اعتماد میں کمی شامل ہے۔
بریگیڈیئر جنرل شکارچی نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کا 20 سالہ منصوبہ ناکام ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق مزید نقصان اور معاشی بحران سے بچنے کے لیے تل ابیب کو پسپائی اختیار کرنا پڑی، جبکہ ایرانی فوج کی مضبوط دفاعی تیاری اور میزائل صلاحیتوں نے دشمن کی عسکری قوت کو تقریباً مفلوج کر دیا۔



