
اسکرین پر دلہا، حقیقت میں دلہن: جاپان میں محبت کا نیا تجربہ
ایک عورت سفید لباس میں ملبوس ہے، سامنے شادی کی رسومات ادا ہو رہی ہیں، مگر دولہا نہ مسکرا رہا ہے، نہ ہاتھ تھام سکتا ہے۔ وہ سانس بھی نہیں لیتا۔ اس کے باوجود نکاح جیسی مقدس رسم ادا ہو رہی ہے۔ یہ کوئی سائنس فکشن ناول کا منظر نہیں بلکہ اکیسویں صدی کی ایک چونکا دینے والی حقیقت ہے، جہاں جاپان میں ایک خاتون نے **اے آئی پارٹنر** سے شادی کے لیے **AR یعنی اگمینٹڈ رئیلٹی گلاسز** کا سہارا لیا۔
یہ واقعہ محض ایک عجیب خبر نہیں بلکہ جدید دنیا میں انسان، مشین اور جذبات کے درمیان بنتے نئے رشتوں کی علامت ہے۔
AR کیا ہے؟ حقیقت پر چڑھی ہوئی دنیا
Augmented Reality یا اگمینٹڈ رئیلٹی ایسی ٹیکنالوجی ہے جس میں **حقیقی دنیا برقرار رہتی ہے** مگر اس پر ڈیجیٹل عناصر کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ AR گلاسز پہننے والا شخص اپنے اردگرد کا ماحول دیکھتا بھی ہے اور ساتھ ہی اسے ڈیجیٹل تصاویر، تحریر یا حتیٰ کہ تھری ڈی انسان بھی نظر آتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جاپان کی اس خاتون کو شادی کے وقت اپنے سامنے ایک مکمل "ڈیجیٹل شوہر” نظر آیا، حالانکہ حقیقت میں وہاں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔
جاپان: جہاں مستقبل پہلے آ جاتا ہے
جاپان کو دنیا میں ٹیکنالوجی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، مگر یہ ملک ایک اور مسئلے سے بھی دوچار ہے۔
تنہائی۔
کم شرحِ پیدائش، دیر سے شادیاں، بڑھتی عمر کی آبادی اور سماجی دباؤ نے جاپان میں لاکھوں افراد کو اکیلا کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں AR، AI اور ورچوئل پارٹنرز صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ **جذباتی سہارا** بنتے جا رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ جاپان میں کسی نے ڈیجیٹل کردار سے شادی کی ہو۔ اس سے قبل بھی کئی افراد ورچوئل گرل فرینڈز، اینیمی کرداروں اور چیٹ بوٹس سے علامتی شادیاں کر چکے ہیں۔
جب مشین سنتی ہے، سمجھتی ہے
ماہرینِ نفسیات کے مطابق انسان کو سب سے زیادہ ضرورت **سنے جانے** کی ہوتی ہے۔ AI چیٹ بوٹس نہ تھکتے ہیں، نہ ناراض ہوتے ہیں اور نہ ہی تعلق توڑنے کی دھمکی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کے لیے یہ تعلق حقیقی رشتوں سے زیادہ محفوظ محسوس ہوتا ہے۔
AR گلاسز اس تعلق کو مزید حقیقت کا روپ دے دیتے ہیں۔ آواز، حرکات اور موجودگی کا احساس انسان کے دماغ کو قائل کر دیتا ہے کہ سامنے واقعی کوئی ہے۔
دنیا بھر کی مثالیں
چین میں نوجوان AI چیٹ بوٹس کو اپنا روزانہ کا جذباتی ساتھی مانتے ہیں۔
امریکہ میں ورچوئل پارٹنرز پر مبنی ایپس تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔
جنوبی کوریا میں حکومت نے تنہا افراد کے لیے AI دوست متعارف کروانے پر کام شروع کر دیا ہے۔
یہ سب واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انسان اور مشین کا تعلق اب سہولت سے آگے بڑھ چکا ہے۔
خطرہ یا نجات؟
سوال یہ نہیں کہ AR اور AI بری ہیں یا اچھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ:
> کیا ہم ٹیکنالوجی کو انسانوں کے قریب لانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟
> یا انسانوں کی جگہ ٹیکنالوجی لا رہے ہیں؟
اگر AR گلاسز تنہائی کم کر دیں تو شاید یہ نعمت ہوں، لیکن اگر یہ انسان کو انسان سے مزید دور کر دیں تو یہ ایک خطرناک راستہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
آخری سوال۔
جاپان کی اس شادی نے ہمیں چونکا ضرور دیا، مگر اس نے ایک خاموش سچ بھی بے نقاب کر دیا:
**مستقبل میں مسئلہ یہ نہیں ہوگا کہ ٹیکنالوجی کیا کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ انسان کس حد تک اکیلا ہو چکا ہے۔**
اور شاید اسی تنہائی کو بھرنے کے لیے AR گلاسز، AI آوازیں اور ڈیجیٹل رشتے جنم لے رہے ہیں۔
کیا یہ مستقبل کی محبت ہے؟
یا محبت کی جگہ لینے والی ٹیکنالوجی؟
یہ فیصلہ شاید ابھی باقی ہے۔



