
ایبٹ آباد کی خاموش وادی میں گونجتا سوال: ڈاکٹر وردہ مشتاق کس کا نشانہ بنیں؟
ایبٹ آباد… پہاڑوں کے دامن میں بسا ہوا وہ پُرسکون شہر، جو کبھی اپنی ٹھنڈی ہواؤں اور پرسکون گلیوں کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔ مگر پچھلے دنوں یہی شہر ایک ایسی خبر سے دہل گیا، جس نے نہ صرف ہزارہ ڈویژن بلکہ پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
یہ خبر تھی ڈاکٹر وردہ مشتاق کے بے رحمانہ قتل کی — ایک ایسا سانحہ جس نے نہ صرف طبی برادری کو سوگوار کیا، بلکہ پورے معاشرے پر یہ سوال بھی چھوڑ دیا کہ آخر ایک ڈاکٹر، جو زندگی بچانے کا عہد رکھتی تھی، خود موت کے ہاتھوں کیوں مار دی گئی؟
ایک مہربان مسکراہٹ… ایک غمناک انجام
ڈاکٹر وردہ مشتاق اپنے مریضوں کے لیے ایک بااعتماد نام تھیں۔
پُرسکون لہجہ، نرم رویّہ، اور مسکراہٹ — یہ ان کی شناخت تھی۔
مگر وہی ڈاکٹر، جو دوسروں کے دکھ کم کرتی تھیں، خود ایسی اذیت کا شکار ہوئیں جس کی مثال شاذ ہی ملتی ہے۔
ان کی میت جب گھر پہنچی تو پورے علاقے پر ایک گہری سنّاٹا طاری ہو گیا۔
خواتین کی سسکیاں، بچوں کی چیخیں، باپ کے کمزور قدم… یہ سب کچھ اس رات کا المناک منظر بیان کرتے رہے۔
ان کی نمازِ جنازہ پیر کی رات 10 بجے ادا کی گئی،
اور کینٹ قبرستان میں انہیں سپردِ خاک کیا گیا —
مگر قبر پر پھول چڑھاتے ساتھی ڈاکٹرز کے ہاتھ آج بھی کانپ رہے ہیں۔
غصے کی آگ… جو پورے ہزارہ میں پھیل گئی
ڈاکٹر وردہ کے قتل کے بعد عوامی غم و غصہ اس قدر بڑھا کہ احتجاج کی لہر پورے ہزارہ ڈویژن میں پھیل گئی۔
ایوب میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹرز نے سِلک روڈ بند کر کے دھرنا دیا۔
نرسز، پیرا میڈیکس، ٹیکنیشن، کلاس فور ملازمین — سب ایک آواز میں نعرے لگا رہے تھے:
“انصاف… انصاف… وردہ کیلئے انصاف!”
مانسہرہ، اپر کوہستان، لوئر کوہستان، تورغر، لورا، حویلیاں — کوئی شہر خاموش نہ رہا۔
صوبے کی میڈیکل کمیونٹی پہلی بار یوں متحد نظر آئی۔
ایسا احتجاج جو شاید برسوں بعد دیکھنے میں آیا ہو۔
عدالت، پولیس اور سیاست — سب دباؤ میں
ڈان اخبار کے مطابق، گرفتار ملزمان — جن میں مرکزی ملزمہ ردا کے شوہر وحید بلا بھی شامل ہیں —
کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
لیکن اس داستان کا سب سے خوفناک حصہ…
اہم ملزم شمریز کا تاحال مفرور ہونا ہے۔
وہ شخص جس کا نام بار بار سامنے آ رہا ہے، مگر قانون کی گرفت سے اب تک باہر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لوگوں کا غصہ بلند ہوتا جا رہا ہے۔
کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے پہلے تو اس کیس کو سنجیدہ نہیں لیا،
پھر جب احتجاج بڑھے تو وہ ہلچل میں آئی۔
اسی دباؤ کے تحت ایس ایچ او کینٹ سب انسپکٹر زبیر خان کو ہٹا کر
ان کی جگہ انسپکٹر علی جدون کو تعینات کیا گیا۔
بلّا خاندان کی دکانیں سیل — خوف یا احتیاط؟
عوامی غم و غصے کے پیش نظر، ضلعی انتظامیہ نے
بلّا خاندان کی ملکیت تمام کپڑوں کی دکانیں سیل کر دیں۔
شہر میں ایک غیرعلانیہ ہنگامی فضا رہی۔
دکاندار خوفزدہ، شہری مشتعل، اور پولیس الرٹ —
یہ وہ ماحول تھا جو ایبٹ آباد کی پرامن شناخت کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
حکومت کی یقین دہانیاں… مگر سوال وہی پرانا
صوبائی وزیرِ صحت خلیق الرحمٰن نے نہ صرف اہلِ خانہ سے تعزیت کی
بلکہ بینظیر ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد جا کر ڈاکٹرز سے ملاقات بھی کی۔
انہوں نے کہا:
“ڈاکٹرز ہماری ریڑھ کی ہڈی ہیں… وردہ کا قتل ایک سانحہ نہیں، ایک زخم ہے۔
ملوث افراد کسی صورت نہیں بچیں گے۔”
ڈی آئی جی ہزارہ ناصر محمود ستی نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ
تفتیش ہر پہلو سے کی جا رہی ہے۔
ایک جے آئی ٹی قائم کی گئی ہے۔
خصوصی ٹیمیں مفرور ملزمان کے پیچھے لگی ہیں۔
لیکن عوام کے ذہن میں ابھی بھی ایک سوال گردش کر رہا ہے:
“کب تک؟”
قتل کی کہانی — کیوں ہوئی؟ کیسے ہوئی؟
یہ وہ سوالات ہیں جن پر ابھی دھند چھائی ہوئی ہے۔
افواہیں، قیاس آرائیاں، سوشل میڈیا کی بحث — سب کچھ موجود ہے،
لیکن اصل حقیقت ابھی پردے میں ہے۔
کیا یہ ذاتی دشمنی تھی؟
ایک منصوبہ بند واردات؟
یا کوئی اور تلخ راز جو ابھی سامنے آنا باقی ہے؟
ہر گزرتے دن کے ساتھ عوام کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔
اور ڈاکٹرز کی کمیونٹی کہہ رہی ہے:
“اگر سفید کوٹ محفوظ نہیں…
تو پھر مریض محفوظ کیسے ہوں گے؟”
اختتام: وردہ کی یاد… اور ایک سوال جو گونجتا رہے گا
ڈاکٹر وردہ مشتاق کی قبر پر رکھا ایک سفید کوٹ…
دو ننھے بچے اپنی ماں کا چہرہ تلاش کرتے آنکھوں میں آنسو لیے…
اور شہر کے ہر دروازے پر ایک ہی فضا:
دکھ… درد… اور انصاف کی پیاس۔
ایبٹ آباد کے آسمان پر اداسی اب بھی چھائی ہے۔
اور اس شہر کو شاید بہت وقت لگے گا،
ڈاکٹر وردہ جیسے مسکراتے چہرے کے خون سے نکلے اس زخم کو بھرنے میں۔
مگر ایک سوال…
آج بھی گلیوں میں گونج رہا ہے:
“کیا وردہ مشتاق کو انصاف ملے گا؟”



